Recitation
Next: 55_9
Arabic
أَلَّا تَطۡغَوۡاْ فِي ٱلۡمِيزَانِ
Urdu
اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو
English
That you not transgress within the balance
Tafsir — Bayan ul Quran
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا۔ اس کو نطق کی انوکھی صلاحیت دی جو ساری معلوم کائنات میں کسی کو حاصل نہیں۔ پھر انسان سے جو عادلانہ روش مطلوب تھی اس کا عملی نمونہ اس نے کائنات میں قائم کردیا۔ انسان کے گردو پیش کی پوری دنیا عین اسی اصولِ عدل پر قائم ہے جو انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے اور قرآن میں اسی عدل کو لفظی طور پر بیان کردیا گیا ہے۔ قرآن خدائی عدل کا لفظی اظہار ہے اور کائنات خدائی عدل کا عملی اظہار۔ بندوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے قول و عمل کو اسی ترازو سے ناپتے رہیں۔ وہ نہ لینے میں بے انصافی کریں اور نہ دینے میں۔