Recitation
Next: 57_22
Arabic
سَابِقُوٓاْ إِلَىٰ مَغۡفِرَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ أُعِدَّتۡ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۚ ذَٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ
Urdu
دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے
English
Race toward forgiveness from your Lord and a Garden whose width is like the width of the heavens and earth, prepared for those who believed in Allah and His messengers. That is the bounty of Allah which He gives to whom He wills, and Allah is the possessor of great bounty
Tafsir — Bayan ul Quran
دنیا میں اللہ نے آخرت کی مثالیں قائم کردی ہیں۔ ان میں سے ایک مثال کھیتی کی ہے۔ کھیتی جب پانی پاکر تیار ہوتی ہے تو تھوڑے دنوں کے لیے اس کی سرسبزی نہایت پرکشش معلوم ہوتی ہے۔ مگر بہت جلد گرم ہوائیں چلتی ہیں۔ ساری سرسبزی اچانک ختم ہوجاتی ہے۔ اور پھر اس کو کاٹ کر اسے چورا چورا کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح موجودہ دنیا کی رونق بھی چند روزہ ہے۔ آدمی اس کو پا کر دھوکے میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ وہ اسی کو سب کچھ سمجھ لیتا ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ خدا کی طرف لوٹا یا جائے گا تو اس پر کھلے گا کہ دنیا کی رونقوں کی کوئی حقیقت نہ تھی۔