Recitation

Next: 6_105


Arabic

قَدۡ جَآءَكُم بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمۡۖ فَمَنۡ أَبۡصَرَ فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ عَمِيَ فَعَلَيۡهَاۚ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيۡكُم بِحَفِيظٖ


Urdu

دیکھو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آ گئی ہیں، اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اٹھائے گا، میں تم پر کوئی پاسبان نہیں ہوں


English

There has come to you enlightenment from your Lord. So whoever will see does so for [the benefit of] his soul, and whoever is blind [does harm] against it. And [say], “I am not a guardian over you


Tafsir — Bayan ul Quran

قدیم ترین زمانہ سے انسان کی یہ کمزوری رہی ہے کہ جس چیز میں بھی کوئی امتیاز یا کوئی پراسراريت دیکھتا ہے اس کو وہ خدا کا شریک سمجھ لیتا ہے۔ اور اس سے مدد لینے یا اس کی آفتوں سے بچنے کے لیے اس کو پوجنے لگتا ہے۔ اسی ذہن کے تحت بہت سے لوگوں نے فرشتے اور کواکب اور جنّات کو پوجنا شروع کردیا۔ حالاں کہ ان چیزوں کے خدا نہ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے ان کے اندر ’’خلق‘‘ کی صفت نہیں۔ انھوں نے نہ اپنے آپ کو پیدا کیا اور نہ وہ کسی دوسری چیز کو پیدا کرنے پر قادر ہیں۔ ان کو خود کسی دوسری ہستی نے تخلیق کیا ہے۔ پھر جو خالق ہے وہ خدا ہوگا یا جو مخلوق ہے وہ خدا بن جائے گا۔ ایک درخت کو کمال درجہ موزونیت کے ساتھ وہ تمام چیزیں پہنچتی ہیں جو اس کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔ اسی طرح کائنات کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ جب یہ حقیقت ہے کہ ان چیزوں کو جو کچھ ملتاہے کسی دینے والے کے ديے سے ملتا ہے تو یقیناً دینے والا ہر جز وکل سے باخبر ہوگا۔ اگر وہ ان سے باخبر نہ ہو تو ہر چیز کی اس کی عین ضرورت کے مطابق کارسازی کس طرح کرے۔ اب جو خدا اتنی کامل صفات کا مالک ہو وہ آخر کس ضرورت کے ليے کسی کو اپنی خدائی میں شریک کرے گا۔ انسان خدا کو محسوس صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اور جب وہ اس کو محسوس صورت میں نظر نہیں آتا تو وہ دوسری محسوس چیزوں کو خدا فرض کرکے اپنی ظاہرپرستی کی تسکین کرلیتا ہے۔ مگر یہ خدا کی ہستی کا بہت کمتر اندازہ ہے۔ آخر جو خدا ایسا عظیم ہو کہ اتنی بڑی کائنات پیدا کرے اور انتہائی نظم کے ساتھ اس کو مسلسل چلاتا رہے، وہ اتنا معمولی کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک کمزور مخلوق اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اپنے ہاتھوں سے چھوئے۔ البتہ انسان دل کی راہ سے خدا کو پاتا ہے اور یقین کی آنکھ سے اس کو دیکھتا ہے۔ جو شخص بصیرت کی آنکھ سے دیکھ کر ماننے پر راضی ہو وہی خدا کو پائے گا۔ جو بصارت سے دیکھنے پر اصرار کرے وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہے گا جس طرح وہ شخص پھول کی خوشبو کو جاننے سے محروم رہتا ہے جو ا س کو کیمیائی معیاروں پر پرکھ کر جاننا چاہے۔


Connections

  • Previous: 6_103
  • Next: 6_105
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes