Recitation
Next: 6_123
Arabic
أَوَمَن كَانَ مَيۡتٗا فَأَحۡيَيۡنَٰهُ وَجَعَلۡنَا لَهُۥ نُورٗا يَمۡشِي بِهِۦ فِي ٱلنَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُۥ فِي ٱلظُّلُمَٰتِ لَيۡسَ بِخَارِجٖ مِّنۡهَاۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلۡكَٰفِرِينَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
Urdu
کیا وہ شخص جو پہلے مُردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح اُن سے نہ نکلتا ہو؟ کافروں کے لیے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں
English
And is one who was dead and We gave him life and made for him light by which to walk among the people like one who is in darkness, never to emerge therefrom? Thus it has been made pleasing to the disbelievers that which they were doing
Tafsir — Bayan ul Quran
اللہ کی نظر میں وہ شخص زندہ ہے جس کے سامنے ہدایت کی روشنی آئی اور اس نے اس کو اپنے راستہ کی روشنی بنالیا۔ اس کے مقابلہ میں مردہ وہ ہے جو ہدایت کی روشنی سے محروم ہو کر باطل کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہو۔ مُردہ آدمی اوہام وتعصبات کے جال میں اتنا پھنسا ہوا ہوتا ہے کہ سیدھے اور سچے حقائق اس کے ذہن کی گرفت میں نہیں آتے۔ وہ اشیاء کی ماہیت سے اتنا بے خبر ہوتا ہے کہ لفظی بحث اور حقیقی کلام میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی بڑائی کے تصور میں اتنا ڈوبا ہوا ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کی طرف سے آئی ہوئی سچائی کا اعتراف کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے ذہن پر رواجی خیالات کا اتنا غلبہ ہوتا ہے کہ ان سے ہٹ کر کسی اور معیار پر وہ چیزوں کو جانچ نہیں پاتا۔ اپنی ان کمزوریوں کی بنا پر وہ اندھیرے میں بھٹکتا رہتا ہے، بظاہر زندہ ہوتے ہوئے بھی وہ ایک مُردہ انسان بن جاتاہے۔ اس کے برعکس جو شخص ہدایت کے لیے اپنا سینہ کھول دیتا ہے وہ ہر قسم کی نفسیاتی گرہوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ سچائی کو پہچاننے میں اسے ذرا بھی دیر نہیں لگتی۔ الفاظ کے پردے کبھی اس کے لیے حقیقت کا چہرہ دیکھنے میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ ذوق اور عادت کے مسائل اس کی زندگی میں کبھی یہ مقام حاصل نهيں کرتے کہ اس کے اور حق کے درمیان حائل ہوجائیں۔ سچائی اس کے لیے ایک ایسی روشن حقیقت بن جاتی ہے جس كو دیکھنے میں اس کی نظر کبھی نہ چوکے اور جس کو پانے کے لیے وہ کبھی سست ثابت نہ ہو۔ وہ خود بھی حق کی روشنی میں چلتا ہے اور دوسروں کو بھی اس میں چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ لوگ جو خود ساختہ چیزوں کو خدا کا مذہب بتا کر عوام کا مرجع بنے ہوئے ہوتے ہیں وہ ہر ایسی آواز کے دشمن بن جاتے ہیں جو لوگوں کو سچے دین کی طرف پکارے۔ ایسی ہر آواز ان کو اپنے خلاف بے اعتمادی کی تحریک دکھائی دیتی ہے۔یہ وقت کے بڑے لوگ حق کی دعوت میں ایسے شوشے نکالتے ہیں جس سے وہ عوام کو اس سے متاثر ہونے سے روک سکیں۔ وہ حق کے دلائل کو غلط رخ دے کر عوام کو شبہات میں مبتلا کرتے ہیں۔ حتی کہ بے بنیاد باتوں کے ذریعے داعی کی ذات کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کی کوششیں صرف ان کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ داعی اور دعوت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں — حق پرست وہ ہے جو حق کو اس وقت دیکھ لے جب کہ اس کے ساتھ دنیوی عظمتیں شامل نہ ہوئی ہوں۔ دنیوی عظمت والے حق کو ماننا دراصل دنیوی عظمتوں کو ماننا ہے نہ کہ خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق کو۔