Recitation
Next: 6_152
Arabic
۞قُلۡ تَعَالَوۡاْ أَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡۖ أَلَّا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗاۖ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنٗاۖ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُم مِّنۡ إِمۡلَٰقٖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَإِيَّاهُمۡۖ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ
Urdu
اے محمدؐ! ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں: یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ا ن کو بھی دیں گے اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو
English
Say, “Come, I will recite what your Lord has prohibited to you. [He commands] that you not associate anything with Him, and to parents, good treatment, and do not kill your children out of poverty; We will provide for you and them. And do not approach immoralities - what is apparent of them and what is concealed. And do not kill the soul which Allah has forbidden [to be killed] except by [legal] right. This has He instructed you that you may use reason
Tafsir — Bayan ul Quran
خدائی پابندی کے نام پر لوگ طرح طرح کی رسمی اور ظاہری پابندیاں بنا لیتے ہیں اور ان کا خصوصی اہتمام کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ انھوں نے خدائی پابندیوں کا حق ادا کردیا۔ مگر خدا انسان سے جن پابندیوں کا اہتمام چاہتا ہے وہ حقیقی پابندیاں ہیں، نہ کہ کسی قسم کے رسمی مظاہر۔ سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ آدمی ایک خدا کو اپنا خدا بنائے۔ اس کے سوا کسی کی بڑائی کا غلبہ اس کے ذہن پر نہ ہو۔ اس کے سوا کسی کو وہ قابل بھروسہ نہ سمجھتا ہو۔اس کے سوا کسی سے وہ امید قائم نہ کرے اس کے سوا کسی سے وہ نہ ڈرے اور نہ اس کے سوا کسی کی شدید محبت میں مبتلا ہو۔ والدین اکثر حالات میں کمزور او رمحتاج ہوتے ہیں اور اولاد طاقت ور۔ ان سے حسن سلوک کا محرک مفاد نہیںہوتا بلکہ صرف حق شناسی ہوتا ہے۔ اس طرح والدین کے حقوق ادا کرنے کا معاملہ آدمی کے ليے اس بات کا سب سے پہلا امتحان بن جاتا ہے کہ اس نے خدا کے دین کو قول کی سطح پر اختیار کیا ہے یا عمل کی سطح پر۔ اگر وہ والدین کی کمزوری کے بجائے ان کے حق کو اہمیت دے، اگر اپنے دوستوں اور اپنی بیوی بچوں کی محبت اس کو والدین سے دور نہ کرے تو گویا اس نے اس بات کا پہلا ثبوت دے دیا کہ اس کا اخلاق اصول پسندی اور حق شناسی کے تابع ہوگا، نہ کہ مفاد اور مصلحت کے تابع۔ انسان اپنے حرص اور ظلم کی وجہ سے خدا کے پیدا كيے ہوئے رزق کو تمام بندوں تک منصفانہ طورپر پہنچنے نہیں دیتا۔ اور جب اس کی وجہ سے قلت کے مصنوعی مسائل پیدا ہوتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ کھانے والوں کو قتل کردو یا پیداہونے والوںكو پیدا نہ ہونے دو۔ اس قسم کی باتیں خدا کے نظام رزق پر بہتان کے ہم معنیٰ ہیں۔ بہت سی برائیاں ایسی ہیں جو اپنی ہیئت میںاتنی فحش ہوتی ہیں کہ ان کی برائی کو جاننے کے ليے کسی بڑے علم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انسانی فطرت اور اس کا ضمیر ہی یہ بتانے کے ليے کافی ہے کہ یہ کام انسان کے کرنے کے قابل نهيں۔ ايسي حالت ميں جو شخص فحاشي يا بے حيائي كے كام ميں مبتلا هو وه گويا ثابت كررها هے كه وه اس ابتدائي درجهٔ انسانیت سے بھی محروم ہے جہاں سے کسی انسان کے انسان ہونے کا آغاز ہوتا ہے۔ ہر انسان کی جان محترم ہے۔ کسی انسان کو ہلاک کرنا کسی کے ليے جائز نہیں جب تک خالق کے قانون کے مطابق وہ کوئی ایسا جرم نہ کرے جس میں اس کی جان لینا مخصوص شرائط کے ساتھ مباح ہوگیاہو — یہ باتیں اتنی واضح ہیں کہ عقل سے کام لینے والا ان کی صداقت کو جاننے سے محروم نہیں رہ سکتا۔