Recitation

Next: 6_7


Arabic

أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَبۡلِهِم مِّن قَرۡنٖ مَّكَّنَّـٰهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَكِّن لَّكُمۡ وَأَرۡسَلۡنَا ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡهِم مِّدۡرَارٗا وَجَعَلۡنَا ٱلۡأَنۡهَٰرَ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهِمۡ فَأَهۡلَكۡنَٰهُم بِذُنُوبِهِمۡ وَأَنشَأۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا ءَاخَرِينَ


Urdu

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کا اپنے اپنے زمانہ میں دور دورہ رہا ہے؟ اُن کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا تھا جو تمہیں نہیں بخشا ہے، ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں، (مگر جب انہوں نے کفران نعمت کیا تو) آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کر دیا اور ان کی جگہ دوسرے دور کی قوموں کو اٹھایا


English

Have they not seen how many generations We destroyed before them which We had established upon the earth as We have not established you? And We sent [rain from] the sky upon them in showers and made rivers flow beneath them; then We destroyed them for their sins and brought forth after them a generation of others


Tafsir — Bayan ul Quran

خدا اور آخرت کی دعوت جو خدا کی براہِ راست تائید سے اٹھی ہو اس کے ساتھ واضح علامتیں ہوتی ہیں جو اس بات کا اعلان کر رہی ہوتی ہیں کہ یہ ایک سچی دعوت ہےاور خدا كي طرف سے هے— اس كا اس فطرت كے انداز پر هونا جس پر خدا كي ابدي دنيا كا نظام قائم هے۔اس کا ایسے دلائل کی بنیاد پر اٹھنا جس کا توڑ کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔ اس کی پشت پر ایسے داعی کا ہونا جس کی سنجیدگی اور اخلاق پر شبہ نہ کیا جاسکتا ہو۔ اس کے ساتھ ایسے تائیدی واقعات کا وابستہ ہونا کہ مخالفین اپنی برتر قوت کے باوجود اس کے خلاف اپنے تخریبی منصوبوں میں کامیاب نہ ہوئے ہوں۔ اس طرح کے واضح قرائن ہیں جو اس کے برحق ہونے کی طرف کھلا اشارہ کررہے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود انسان اس پر یقین نہیں کرتا اور اس کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام تائیدی قرائن اپنی ساری وضاحت کے باوجود ہمیشہ اسباب کے پردہ میںظاہر ہوتے ہیں۔ آدمی کے سامنے جب یہ قرآئن آتے ہیں تو وہ ان کو مخصوص اسباب کی طرف منسوب کرکے انھیں نظر انداز کردیتا ہے، اس کا ذہن اعتراف کے رخ پر چلنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ دعوت اگر خدا کی طرف سے ہوتی تو خدااور فرشتے برہنہ صورت میں اس کے ساتھ موجود ہوتے۔ حالاں کہ یہ خیال سراسر باطل ہے۔ کیوںکہ خدااور فرشتے جب برہنہ صورت میں سامنے آجائیں تو وہ فیصلہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ دعوت اور تبلیغ کا۔ جن لوگوں کو زمین میں جماؤ حاصل ہو، جنھوں نے اپنے لیے معاشی سازوسامان جمع کرلیا ہو، جن کو اپنے آس پاس عظمت ومقبولیت کے مظاہر دکھائی دیتے ہوں وہ ہمیشہ غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد جمع شدہ چیزوں کے مقابلہ میں ان چیزوں کو حقیر سمجھ لیتے ہیں، جو داعی حق کے گرد خدا نے جمع کی ہیں۔ ان کی یہ خود اعتمادی اتنا بڑھتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بھی بے خوف ہوجاتے ہیں۔ وہ داعی حق کی اس تنبیہ کا مذاق اڑانے لگتے ہیں کہ تمھاری سرکشی جاری رہی تو تمھاری مادی ترقیاں تم کو خدا کی پکڑ سے نہ بچاسکیں گی۔ داعی حق کو ناچیز سمجھنا ان کی نظر میں داعی کی تنبیہات کو بھی ناچیز بنا دیتاہے۔ ماضی کے وہ تاریخی واقعات بھی ان کو سبق دینے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتے جب کہ بڑے بڑے مادی استحکام کے باوجود خدانے لوگوں کو اس طرح مٹا دیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی — زمین میں بار بار ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا ابھرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہاںمکافات کا قانون نافذ ہے۔ مگر آدمی سبق نہیں لیتا۔ پچھلے لوگ دوبارہ اسی عمل کو دہراتے ہیں جس کی وجہ سے اگلے لوگ برباد ہوگئے۔


Connections

  • Previous: 6_5
  • Next: 6_7
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes