Recitation

Next: 60_5


Arabic

قَدۡ كَانَتۡ لَكُمۡ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ فِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ إِذۡ قَالُواْ لِقَوۡمِهِمۡ إِنَّا بُرَءَـٰٓؤُاْ مِنكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ ٱلۡعَدَٰوَةُ وَٱلۡبَغۡضَآءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ وَحۡدَهُۥٓ إِلَّا قَوۡلَ إِبۡرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَمَآ أَمۡلِكُ لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖۖ رَّبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّلۡنَا وَإِلَيۡكَ أَنَبۡنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ


Urdu

تم لوگوں کے لیے ابراہیمؑ اور اُس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا “ہم تم سے اور تمہارے اِن معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں، ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہو گئی اور بیر پڑ گیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ” مگر ابراہیمؑ کا اپنے باپ سے یہ کہنا (اِس سے مستثنیٰ ہے) کہ “میں آپ کے لیے مغفرت کی درخواست ضرور کروں گا، اور اللہ سے آپ کے لیے کچھ حاصل کر لینا میرے بس میں نہیں ہے” (اور ابراہیمؑ و اصحاب ابراہیمؑ کی دعا یہ تھی کہ) “اے ہمارے رب، تیرے ہی اوپر ہم نے بھروسا کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کر لیا اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے


English

There has already been for you an excellent pattern in Abraham and those with him, when they said to their people, “Indeed, we are disassociated from you and from whatever you worship other than Allah. We have denied you, and there has appeared between us and you animosity and hatred forever until you believe in Allah alone” except for the saying of Abraham to his father, “I will surely ask forgiveness for you, but I have not [power to do] for you anything against Allah. Our Lord, upon You we have relied, and to You we have returned, and to You is the destination


Tafsir — Bayan ul Quran

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتداء ً خیر خواہانہ انداز میں اپنے خاندان کو توحید کا پیغام دیا۔جب اتمام حجت کے با وجود وہ لوگ منکر بنے رہے تو آپ ان سے بالکل جدا ہوگئے۔ مگر یہ بڑا سخت مرحلہ تھا۔ کیوں کہ اعلان براءت کا مطلب منکرینِ حق کو یہ دعوت دینا تھا کہ وہ ہر ممکن طریقہ سے اہل ایمان کو ستائیں۔ دلیل کے میدان میں شکست کھانے کے بعد طاقت کے میدان میں اہل ایمان کو ذلیل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے جو دعا کی اس میں خاص طور سے فرمایا کہ — اے ہمارے رب ہم کو ان ظالموں کے ظلم کا تختہ مشق نہ بنا۔ عزیزوں اور رشتہ داروں سے اعلان براءت عام معنوں میں اعلان عداوت نہیں ہے۔ یہ داعی کی طرف سے اپنے یقین کا آخری اظہار ہے۔ اس اعتبار سے اس میں بھی ایک دعوتی قدر شامل ہوجاتی ہے۔ چنانچہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص ’’پیغام‘‘ کی زبان سے متاثر نہیں ہوا تھا، ’’یقین‘‘ کی زبان اس کو جیتنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔


Connections

  • Previous: 60_3
  • Next: 60_5
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes