Recitation
Next: 65_3
Arabic
فَإِذَا بَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمۡسِكُوهُنَّ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ فَارِقُوهُنَّ بِمَعۡرُوفٖ وَأَشۡهِدُواْ ذَوَيۡ عَدۡلٖ مِّنكُمۡ وَأَقِيمُواْ ٱلشَّهَٰدَةَ لِلَّهِۚ ذَٰلِكُمۡ يُوعَظُ بِهِۦ مَن كَانَ يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مَخۡرَجٗا
Urdu
پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک ر کھو، یا بھلے طریقے پر اُن سے جدا ہو جاؤ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو تم میں سے صاحب عدل ہوں اور (اے گواہ بننے والو) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے ادا کرو یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے، ہر اُس شخص کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا
English
And when they have [nearly] fulfilled their term, either retain them according to acceptable terms or part with them according to acceptable terms. And bring to witness two just men from among you and establish the testimony for [the acceptance of] Allah. That is instructed to whoever should believe in Allah and the Last day. And whoever fears Allah - He will make for him a way out
Tafsir — Bayan ul Quran
اسلام میں استثنائی طور پر طلاق کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم اس کا ایک طریقِ کار مقرر کیا گیا ہے جو خاص وقفہ کے درمیان پورا ہوتا ہے۔ اس طرح طلاق کے عمل کو کچھ حدود کا پابند کردیا گیا ہے۔ ان حدود کا مقصد یہ ہے کہ فریقین کے درمیان آخروقت تک واپسی کا موقع باقی رہے۔ اور طلاق کا واقعہ کسی قسم کے خاندانی یا سماجی فساد کا ذریعہ نہ بنے— وہی طلاق اسلامی طلاق ہے جس کے پورے عمل کے دوران خدا کے خوف کی روح جاری و ساری رہے۔