Recitation

Next: 67_23


Arabic

أَفَمَن يَمۡشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجۡهِهِۦٓ أَهۡدَىٰٓ أَمَّن يَمۡشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ


Urdu

بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟


English

Then is one who walks fallen on his face better guided or one who walks erect on a straight path


Tafsir — Bayan ul Quran

انسان کو سننے اور دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ اب کوئی انسان وہ ہے کہ جو کچھ سنا اسی پر چل پڑا، جو دیکھا اس کو بس اس کے ظاہر کے اعتبار سے مان لیا۔ جو بات ایک بار ذہن میں آگئی اسی پر جم گیا۔ یہ انسان وہ ہے جو جانور کی طرح سرجھکائے ہوئے بس ایک ڈگر پر چلا جا رہا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو سنی ہوئی بات کی تحقیق کرے۔ جو دیکھی ہوئی بات کو مزید زیادہ صحت کے ساتھ جاننے کی کوشش کرے۔ جو اپنے ذاتی خول سے باہر نکل کر سچائی کو دریافت کرے۔ یہ دوسرا انسان وہ ہے جو سیدھا ہو کر ایک ہموار راستہ پر چلا جا رہا ہے— سمع و بصر و فواد کی صلاحیت آدمی کو اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق کو پہچانے، نہ یہ کہ وہ اندھے بہرے کی طرح اس سے بے خبر رہے۔


Connections

  • Previous: 67_21
  • Next: 67_23
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes