Recitation
Next: 7_109
Arabic
وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنَّـٰظِرِينَ
Urdu
اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا
English
And he drew out his hand; thereupon it was white [with radiance] for the observers
Tafsir — Bayan ul Quran
پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ’’ظلم‘‘ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے ليے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کررہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہرہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھا ئی گئی ہے۔ یا تحریک کو بدنام کرنے کے ليے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے ليے اٹھے ہیں۔ عوام چوں کہ باتوں کا تجزیہ نہیں کرپاتے اس ليے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعیٔ حق کے خلاف ایسے شوشے نکالنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کرلیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے ليے غیر محفوظ ہوجائے۔ خدا کامل حق پر ہے۔ اس ليے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے ليے جائز نہیں کہ وہ حق وانصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھودے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہوجائے گا۔ حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طورپر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے برعکس، فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑکر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سالہ تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج 5:1 ) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔