Recitation

Next: 7_170


Arabic

فَخَلَفَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٞ وَرِثُواْ ٱلۡكِتَٰبَ يَأۡخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا ٱلۡأَدۡنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغۡفَرُ لَنَا وَإِن يَأۡتِهِمۡ عَرَضٞ مِّثۡلُهُۥ يَأۡخُذُوهُۚ أَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِم مِّيثَٰقُ ٱلۡكِتَٰبِ أَن لَّا يَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّ وَدَرَسُواْ مَا فِيهِۗ وَٱلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ


Urdu

پھر اگلی نسلوں کے بعد ایسے نا خلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جو کتاب الٰہی کے وارث ہو کر اِسی دنیائے دنی کے فائدے سمیٹتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ توقع ہے ہمیں معاف کر دیا جائے گا، اور اگر وہی متاع دنیا پھر سامنے آتی ہے تو پھر لپک کر اسے لے لیتے ہیں کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جا چکا ہے کہ اللہ کے نام پر وہی بات کہیں جو حق ہو؟ اور یہ خود پڑھ چکے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے آخرت کی قیام گاہ تو خدا ترس لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے، کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے؟


English

And there followed them successors who inherited the Scripture [while] taking the commodities of this lower life and saying, “It will be forgiven for us.” And if an offer like it comes to them, they will [again] take it. Was not the covenant of the Scripture taken from them that they would not say about Allah except the truth, and they studied what was in it? And the home of the Hereafter is better for those who fear Allah, so will you not use reason


Tafsir — Bayan ul Quran

حضرت موسیٰ کے زمانہ میں یہود کو جب خدائی احکام ديے گئے تو اس کی کارروائی پہاڑ کے دامن میں ہوئی تھی۔اس وقت ایسے حالات پیدا كيے گئے کہ یہود کو محسوس ہوا کہ پہاڑ ان کے اوپر گرا چاہتاہے۔ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ خدا سے عہد باندھنے کا معاملہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اگر تم نے اس کے تقاضوں کو پورا نہ کیا تو یاد رکھو کہ اس عہد کا دوسرا فریق وہ عظیم ہستی ہے جو چاہے تو پہاڑ کو تمھارے اوپر گرا کر تمھیں ہلاک کردے۔ اس وقت یہود میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اللہ سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے تھے۔ مگر بعد کو دھیرے دھیرے انھوںنے دنیا کو اپنا مقصود بنا لیا۔ وہ جائز ناجائز کا فرق كيے بغیر مال جمع کرنے میں لگ گئے۔ آسمانی کتاب کو اب بھی وہ پڑھتے تھے مگر اس کی تعلیمات کی خود ساختہ تاویلیں کرکے اس کو انھوںنے ایسا بنا لیا کہ خدا بھی ان کو اپنی باغیانہ زندگی کا حامی نظرآنے لگا۔ ان کی بے حسی یہاں تک بڑھی کہ وہ یہ کہہ کر مطمئن ہوگئے کہ ہم برگزیدہ امت ہیں ۔ ہم نبیوں کی اولاد ہیں۔ خدا اپنے محبوب بندوں کے صدقے میں ہم کو ضرور بخش دے گا۔ یہی واقعہ ہر نبی کی امت کے ساتھ پیش آتاہے۔ ابتدائی دور میں اس کے افراد خدا سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ مگر اگلی نسلوںمیں یہ روح (spirit)نکل جاتی ہے۔ وہ دوسرے دنیا دار لوگوں کی طرح ہوجاتے ہیں۔ ان کے درمیان اب بھی دین موجود ہوتا ہے۔ خدا کی کتاب اب بھی ان کے یہاں پڑھی پڑھائی جاتی ہے۔ مگر یہ سب قومی وراثت کے طورپر ہوتاہے، نہ کہ حقیقۃً عہد خداوندی کے طورپر۔ وہ عملاً آخرت کو بھول کر دنیا پرستی کی راہ میں چل پڑتے ہیں۔ وہ صحیح اور غلط سے بے نیاز ہو کر اپنی خواہشوں کو اپنا مذہب بنا لیتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ان کو یہ بھی فخر ہوتا ہے کہ وہ افضل الامم ہیں۔ وہ محبوبِ خدا کے امتی ہیں۔ وہ آسمانی کتاب کے وارث ہیں۔ کلمہ توحید کی برکت سے وہ ضرور بخش ديے جائیں گے۔ مگر اصل چیز یہ ہے کہ آدمی خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے، وہ نماز کو قائم کرے۔ اور کتاب الٰہی کو پکڑنے اور نماز کو قائم کرنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی ’’مصلح‘‘ بن گیا ہو۔ خدا کی کتاب سے تعلق اور خدا کی عبادت کرنا آدمی کو مصلح بناتا ہے، نہ کہ مفسد۔


Connections

  • Previous: 7_168
  • Next: 7_170
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes