Recitation

Next: 7_177


Arabic

وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنَٰهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُۥٓ أَخۡلَدَ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُۚ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ ٱلۡكَلۡبِ إِن تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ أَوۡ تَتۡرُكۡهُ يَلۡهَثۚ ذَّـٰلِكَ مَثَلُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَاۚ فَٱقۡصُصِ ٱلۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ


Urdu

اگر ہم چاہتے تو اسے اُن آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا، لہٰذا اس کی حالت کتے کی سی ہو گئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے یہی مثال ہے اُن لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں تم یہ حکایات اِن کو سناتے رہو، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں


English

And if We had willed, we could have elevated him thereby, but he adhered [instead] to the earth and followed his own desire. So his example is like that of the dog: if you chase him, he pants, or if you leave him, he [still] pants. That is the example of the people who denied Our signs. So relate the stories that perhaps they will give thought


Tafsir — Bayan ul Quran

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص امیہ بن ابی الصلت تھا۔ اعلیٰ انسانی اوصاف کے ساتھ وہ حکیمانہ کلام میں بھی ممتاز درجہ رکھتا تھا۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں ایک پیغمبر کے آنے کی پیشین گوئیاں موجود ہیں تو اس کو گمان ہوا کہ شاید وہ پیغمبر میں ہی ہوں۔ بعد کو جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت کی خبر ملی اور اس نے آپ کا اعلیٰ کلام سنا تو اس کو سخت مایوسی ہوئی۔ وہ پیغمبر اسلام کا سخت مخالف بن گیا۔ امیہ بن ابی الصلت کو خدا نے جو اعلیٰ خصوصیات دی تھیں ان کا صحیح استعمال یہ تھا کہ وہ خدا کے پیغمبر کو پہچانے اور ان کا ساتھی بن جائے۔ مگر خدا کی نوازشوں سے ا س نے اپنے اندر یہ ذہن بنایا کہ اب خدا کو میرے سوا کسی اور پر اپنا فضل نہ کرنا چاہيے۔ پیغمبر خدا کو نہ ماننے میں اسے دنیوی فائدہ نظر آتا تھا اس کے برعکس، آپ کو ماننے میں اخروی فائدہ تھا۔ اس نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دی۔ وہ اگر اعتراف کے رخ پر چلتا تو وہ فرشتوں کو اپنا ہم سفر بناتا۔ مگر جب وہ حسد اور گھمنڈ کے راستہ پر چل پڑا تو وہاں شیطان کے سوا کوئی اور نہ تھا جو اس کا ساتھ دے۔ یہ مثال ان تمام لوگوں پر صادق آتی ہے جو حسد اور کبر کی بنا پر سچائی کو نظر انداز کریں یا اس کو ماننے سے انکار کریں۔ کسی آدمی کا ایسا بننا اپنے آپ کو انسانیت کے مقام سے گرا کر کتے کے مقام پر پہنچا دینا ہے۔ کتا اچھے سلوک پر بھی ہانپتا ہے اور برے سلوک پر بھی۔ یہی حال ایسے آدمی کا ہے۔خدا نے جب اس کو دیا تب بھی اس نے اس سے سرکشی کی غذا لی اور نہ دیا تب بھی وہ سرکش ہی بنا رہا۔ حالاں کہ چاہیے یہ تھا کہ جب خدا نے اس کو دیا تھا تو وہ اس کا احسان مند ہوتا اور جب خدا نے نہیں دیا تو وہ خدا کی تقسیم پر راضی رہ کر اس کی طرف رجوع کرتا۔ کسی کو راستہ دکھانے کے ليے خدا خود سامنے نہیں آتا بلکہ وہ نشانیوں (دلائل) کی صورت میں اپنا راستہ لوگوں کے اوپر کھولتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ دلائل اور نشانیوں کے روپ میں ظاہر ہونے والے حق کو پہچان لیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے پر راضی ہوجائیں وہی اس دنیا میں ہدایت یاب ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ دلائل اور نشانیوں کو اہمیت نہ دیں ان کے ليے ابدی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔


Connections

  • Previous: 7_175
  • Next: 7_177
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes