Recitation
Next: 7_189
Arabic
قُل لَّآ أَمۡلِكُ لِنَفۡسِي نَفۡعٗا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۚ وَلَوۡ كُنتُ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ لَٱسۡتَكۡثَرۡتُ مِنَ ٱلۡخَيۡرِ وَمَا مَسَّنِيَ ٱلسُّوٓءُۚ إِنۡ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٞ وَبَشِيرٞ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
Urdu
اے محمدؐ، ان سے کہو “میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہو تا ہے اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوش خبری سنانے والا ہوں اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں
English
Say, “I hold not for myself [the power of] benefit or harm, except what Allah has willed. And if I knew the unseen, I could have acquired much wealth, and no harm would have touched me. I am not except a warner and a bringer of good tidings to a people who believe
Tafsir — Bayan ul Quran
با مقصد آدمی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر مصلحت پسند انسان ہوتاہے۔ وہ وقت کے رواج سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔ وہ ماحول میں جمے ہوئے مصالح سے بے پروا ہو کر اپنا کام کرتاہے۔ وہ ایک ایسے نشانہ کی خاطر اپنا جان ومال سب کچھ قربان کردیتاہے جس کا کوئی نتیجہ بظاہر اس دنیا میں ملنے والا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بامقصد آدمی کو اکثر اپنے معاصرین کی طرف سے جو سب سے بڑا خطاب ملتاہے وہ ’’مجنون‘‘ ہے۔ خدا کا پیغمبر اپنے وقت کا سب سے بڑا بامقصد انسان ہوتاہے۔ اس ليے خداکے پیغمبروں کو ہر زمانہ کے لوگوں نے یہی کہا کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔ خدا کے دین کے داعی کو مجنون کہنا تمام ظلموں میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ کیوں کہ وہ جس پیغام کو لے کر اٹھتا ہے وہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی تصدیق تمام زمین و آسمان کررہے ہیں۔ وہ ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جو اپنی کائناتی تخلیقات میں ہر طرف انتہائی حد تک نمایاں ہے۔ وہ ایسی آخرت کی خبر دیتاہے جو زمین وآسمان میں اس طرح سنگین حقیقت بنی ہوئی ہے جس طرح کسی ماں کے پیٹ میں پورا حمل۔ لوگ حق کے بارے میں سنجیدہ نہیں، اس ليے حق کی خاطر جان کھپانے والا انھیں مجنون دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ حق کی قدر وقیمت کو جانتے تو کبھی ایسا نہ کہتے۔ ’’قیامت کس تاریخ کو آئے گی‘‘۔ اس قسم کے سوالات غیر سنجیدہ ذہن سے نکلے ہوئے سوالات ہیں۔ قیامت کو ماننے کا انحصار قیامت کے حق میں اصولی دلیل پر ہے، نہ کہ اس بات پر کہ قیامت کی تاریخ متعین صورت میں بتادی جائے۔ جب یہ دنیا دارالامتحان ہے تو یہاں قیامت کو تنبیہہ کی زبان میں بتایا جائے گا ، نہ کہ حسابی تعینات کی زبان میں۔