Recitation
Next: 7_196
Arabic
أَلَهُمۡ أَرۡجُلٞ يَمۡشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَيۡدٖ يَبۡطِشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَعۡيُنٞ يُبۡصِرُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ ءَاذَانٞ يَسۡمَعُونَ بِهَاۗ قُلِ ٱدۡعُواْ شُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ
Urdu
کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں؟ اے محمدؐ، ان سے کہو کہ “بلا لو اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو
English
Do they have feet by which they walk? Or do they have hands by which they strike? Or do they have eyes by which they see? Or do they have ears by which they hear? Say, [O Muhammad], “Call your ‘partners’ and then conspire against me and give me no respite
Tafsir — Bayan ul Quran
بت پرست لوگ پتھر یا دھات کی جو مورتیاں بناتے ہیں، اس کا فلسفہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ خارجی مظاہر ہیں، جن کے اندر ان کا مزعومہ دیوتا حلول کر آیا ہے۔ ان مظاہر کی پرستش ان کے نزدیک اُن معبودوں کی پرستش ہے جن کی وہ محسوس علامتیں ہیں۔ تاہم عوام کی سطح پر عملاً بت پرستی جو شکل اختیار کرتی ہے وہ یہ کہ لوگ خود ان مورتیوں کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ ان بتوں میں نہ چلنے کی طاقت ہوتی، نہ پکڑنے کی، نہ دیکھنے کی اور نہ سننے کی۔ مگر وہی انسان ان کی بابت یہ فرض کرلیتاہے کہ وہ اس کے کام آئیں گے اور اس کی حاجتیں پوری کریں گے۔ تاہم یہ معاملہ معروف قسم کے بتوں کا ہی نہیں ہے۔ ان کے سوا جن چیزوں کو انسان معبودیت کا درجہ دیتاہے ان کا حال بھی یہ ہے ، وطن اور قوم سے لے کر زندہ یا مردہ شخصیتوں تک جن چیزوں سے بھی وہ جذبات وابستہ كيے جاتے ہیں جو صرف ایک خدا کا حق ہے، ان کی حقیقت کیاہے۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی ذاتي طاقت نہیں۔ کوئی بھی پاؤں یا ہاتھ یا آنکھ والا ایسا نہیں جس کے پاؤں اور ہاتھ اور آنکھ اس کے اپنے ہوں۔ ہر ’’پاؤں‘‘ والے کے پاس دیاہوا پاؤں ہے اور اگر اس کا پاؤں چھن جائے تو وہ اس کو دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ ہر ’’ہاتھ‘‘ والے کے پاس دیا ہوا ہاتھ ہے اور اگر اس کا ہاتھ باقی نہ رہے تو وہ دوبارہ اپنا ہاتھ نہیں بنا سکتا۔ ہر ’’آنکھ‘‘ والے کی آنکھ دی ہوئی آنکھ ہے اور اگر اس کی آنکھ جاتی رہے تو اس کے ليے ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے ليے آنکھ تیار کرلے۔ غیر اللہ کی پرستش کرنے والے لوگ اپنے بتوں کے بھروسہ پر ہمیشہ ایک خدا کے پرستاروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ خدا کی اس دنیا میں ان کا بھروسہ کس قدر بے بنیاد تھا۔ جس خدا کا ظہور موجودہ دنیا میں کتابی میزان کی صورت میںہوا ہے، اس کا ظہور عنقریب عدالتی میزان کی صورت میں ہونے والا ہے۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا کہ کام بنانے والا صرف خدا تھا۔ اگر چہ آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے دوسروں کو اپنا کام بنانے والا سمجھتا رہا۔ شریکوں کے پاس تو سرے سے مدد کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں، مگر خدا اپنے وفادار بندوں کی مدد دنیا میں بھی کرتاہے۔ اور آخرت میں بھی۔