Recitation

Next: 7_29


Arabic

وَإِذَا فَعَلُواْ فَٰحِشَةٗ قَالُواْ وَجَدۡنَا عَلَيۡهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَاۗ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأۡمُرُ بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ


Urdu

یہ لوگ جب کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے اِن سے کہو اللہ بے حیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا کیا تم اللہ کا نام لے کر وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے (وہ اللہ کی طرف سے ہیں)؟


English

And when they commit an immorality, they say, “We found our fathers doing it, and Allah has ordered us to do it.” Say, “Indeed, Allah does not order immorality. Do you say about Allah that which you do not know


Tafsir — Bayan ul Quran

قدیم عرب میں لوگ ننگے ہو کر کعبہ کاطواف کرتے اور اس کی حمایت میں یہ کہتے کہ خدا کی عبادت دنیا کی آلائشوں سے پاک ہو کر فطری حالت میں کرنا چاہیے۔ حالاں کہ برہنگی ایسی کھلی ہوئی برائی ہے جس کا برا ہونا عقل عام سے معلوم ہوسکتاہے، اسی طرح آدمی یہ عقیدہ قائم کرلیتاہے کہ بے عملی اور سرکشی کے باوجود سفارشوں کی بنیاد پر خدا اس کو انعامات سے نوازے گا۔ حالاں کہ وہ اپنے سرکش غلاموں کے معاملہ میں محض کسی کے کہنے سے ایسا نہیں کرسکتا۔ وه معمولی معمولی ناقابلِ فہم اعمال جن سے دنیا میں ایک گھر بھی نہیں بن سکتا، ان سے یہ امید کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے عالی شان محل تعمیر کردیں گے۔ الفاظ کا شور وغل جن سے دنیا میں ایک درخت بھی نہیں اُگتا ان کے متعلق یہ خوش گمانی قائم کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے جنت کے باغ اگا رہے ہیں۔ قِسط سے مراد وہ منصفانہ روش ہے جو ہر ناپ میں پوری اترے، وہ عین وہی ہو جو کہ ہونا چاہيے۔ عبادت انسان کی ایک فطری خواہش ہے۔ وہ کسی کو سب سے اونچا مان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دینا چاہتاہے۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی صرف خدا کا عبادت گزار بنے جو اس کا خالق اور رب ہے۔ انسان کسی کو یہ مقام دینا چاہتاہے کہ وہ اس کے ليے اعتماد کی بنیاد ہو۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی خدا کو اپنی زندگی میں اعتماد کی بنیاد بنائے جو ساری طاقتوں کا مالک ہے۔ اسی طرح موت کے بعد ایک اور زندگی کو ماننا عین قسط ہے۔ کیوں کہ آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ عدم سے وجود کی صورت اختیار کرتاہے۔ اس ليے موت کے بعد دوبارہ پیدا ہونے کو ماننا عین اسی حقیقت کو ماننا ہے جو اول پیدائش کے وقت ہر آدمی کے ساتھ پیش آچکی ہے۔ حق کے داعی کاانکار کرنے کے ليے آدمی قدیم بزرگوں کا سہارا لیتاہے۔ قدیم بزرگ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی عظمت تاریخی طورپر قائم ہوچکی ہے۔ ہر آدمی کی نظر میں ان کا برسر حق ہونا مسلمہ امر بنا ہوتا ہے۔ دوسری طرف سامنے کا داعیٔ حق ایک نیا آدمی ہوتا ہے جس کے ساتھ ابھی تاریخ کی تصدیق جمع نہیں ہوئی ہے۔ قدیم بزرگ کوآدمی اس کی تاریخ کے ساتھ دیکھ رہا ہوتا ہے اور نئے داعی کو اس کی تاریخ کے بغیر۔ وہ قدیم بزرگوں کے نام پر داعیٔ حق کا انکار کردیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ عین ہدایت پر ہے۔ مگر اس طرح کی غلط فہمی کسی کے ليے خدا کے یہاں عذر نہیں بن سکتی۔ یہ خدا کے نام پر شیطان کی پیروی ہے، نہ کہ حقیقۃً خدا کی پیروی۔


Connections

  • Previous: 7_27
  • Next: 7_29
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes