Recitation

Next: 7_38


Arabic

فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓۚ أُوْلَـٰٓئِكَ يَنَالُهُمۡ نَصِيبُهُم مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوۡنَهُمۡ قَالُوٓاْ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِۖ قَالُواْ ضَلُّواْ عَنَّا وَشَهِدُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ أَنَّهُمۡ كَانُواْ كَٰفِرِينَ


Urdu

ظاہر ہے کہ اُس سے بڑا ظالم اور کو ن ہو گا جو بالکل جھوٹی باتیں گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی سچی آیات کو جھٹلائے ایسے لوگ اپنے نوشتہ تقدیر کے مطابق اپنا حصہ پاتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ گھڑی آ جائے گی جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے پہنچیں گے اُس وقت وہ اُن سے پوچھیں گے کہ بتاؤ، اب کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم کو خدا کے بجائے پکارتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ، “سب ہم سے گم ہو گئے” اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم واقعی منکر حق تھے


English

And who is more unjust than one who invents about Allah a lie or denies His verses? Those will attain their portion of the decree until when Our messengers come to them to take them in death, they will say, “Where are those you used to invoke besides Allah?” They will say, “They have departed from us,” and will bear witness against themselves that they were disbelievers


Tafsir — Bayan ul Quran

موجودہ دنیا میں کسی کو کام کا موقع اسی وقت تک ہے جب تک اس کی امتحان کی مقررہ مدت پوری ہوجائے۔ فرد کی مدت اس کی عمر کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔ مگر قوم کے بارے میں خدائی فیصلہ کے نفاذ کی اس قسم کی کوئی حد نہیں۔اس کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ حق کے سامنے آنے کے بعد وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے۔ جس قوم کی مدت پوری ہو جائے اس کو کبھی غیر معمولی عذاب بھیج کر فنا کردیا جاتا ہے اور کبھی اس کی سزا یہ ہوتی ہے کہ اس کو عزت وبڑائی کے مقام سے ہٹا دیا جائے۔ کسی آدمی کے ليے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آجائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہوتو اس آدمی پر گویا خدا کی حجت پوری ہوگئی۔ اس کے بعد بھی اگر آدمی اس حق کو ماننے سے انکار کرتاہے تو وہ یقینا ًکبر کی وجہ سے ایسا کررہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے ليے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے كو چھوٹا بنانے پر راضی کرلے ۔ ایسے آدمی کے ليے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔ آدمی جب بھی حق کا انکار کرتاہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتاہے۔ کسی کو دولت واقتدار کا اعتماد ہوتاہے۔ کوئی اپنی عزت ومقبولیت پر بھروسہ كيے ہوئے ہوتا ہے۔ کسی کو یہ اعتماد ہوتاہے کہ اس کے معاملات اتنے درست ہیں کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔کسی کو یہ ناز ہوتا ہے کہ اس کی ذہانت نے اپنی بات کو عین خدا کی بات ثابت کرنے کے ليے شاندار الفاظ دریافت کر ليے ہیں۔ مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن جب یہ تمام جھوٹے سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے ليے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگرچه اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے ليے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔


Connections

  • Previous: 7_36
  • Next: 7_38
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes