Recitation

Next: 7_54


Arabic

هَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأۡوِيلَهُۥۚ يَوۡمَ يَأۡتِي تَأۡوِيلُهُۥ يَقُولُ ٱلَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبۡلُ قَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلۡحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشۡفَعُواْ لَنَآ أَوۡ نُرَدُّ فَنَعۡمَلَ غَيۡرَ ٱلَّذِي كُنَّا نَعۡمَلُۚ قَدۡ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ


Urdu

اب کیا یہ لوگ اِس کے سوا کسی اور بات کے منتظر ہیں کہ وہ انجام سامنے آ جائے جس کی یہ کتاب خبر دے رہی ہے؟ جس روز وہ انجام سامنے آ گیا وہی لوگ جنہوں نے اسے نظر انداز کر دیا تھا کہیں گے کہ “واقعی ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے تھے، پھر کیا اب ہمیں کچھ سفارشی ملیں گے جو ہمارے حق میں سفارش کریں؟ یا ہمیں دوبارہ واپس ہی بھیج دیا جائے تاکہ جو کچھ ہم پہلے کرتے تھے اس کے بجائے اب دوسرے طریقے پر کام کر کے دکھائیں” انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے تصنیف کر رکھے تھے آج ان سے گم ہو گئے


English

Do they await except its result? The Day its result comes those who had ignored it before will say, “The messengers of our Lord had come with the truth, so are there [now] any intercessors to intercede for us or could we be sent back to do other than we used to do?” They will have lost themselves, and lost from them is what they used to invent


Tafsir — Bayan ul Quran

قرآن آدمی کو موت کے بعد آنے والی زندگی سے ڈراتا ہے، وہ آخرت کے حساب کتاب سے لوگوں کو آگاہ کرتاہے۔ مگر آدمی چوکنّا نہیں ہوتا۔ قرآن کی یہ خبریں اگر چہ محض خبریں نہیں ہیں بلکہ وہ کائنات کی اٹل حقیقتیں ہیں۔ تاہم ابھی وہ واقعات کی صورت میں ظاہر نہیں ہوئیں، ابھی وہ مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی ہیں۔ اس بنا پر غافل انسان یہ سمجھتاہے کہ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے۔ مگر یہ باتیں خدا کی طرف سے ہیں جو تمام باتوں کا جاننے والا ہے۔ جن لوگوں نے اپنی فطرت کو بگاڑا نہیں ہے، جن کی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہیں پڑے ہوئے ہیں، وہ قرآن کی ان باتوں کو اپنے دل کی آواز پائیں گے۔ وہ ان کو عین وہی چیز معلوم ہوگی جس کی تلاش ان کی فطرت پہلے سے کررہی تھی۔ قرآن ان کے ليے زندگی اور یقین کا خزانہ بن جائے گا۔ اس کے برعکس حال ان لوگوں کا ہے جو قرآن کی آگاہی کو کوئی سنجیدہ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی اسی غفلت کی حالت میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ وہ وقت ان پر پھٹ پڑے جس کی خبر انھیں دی جارہی ہے۔ اس وقت آدمی اچانك ديكھے گا كه وه بالكل بے سهارا هوچكا هے۔ وه جن مسائل كو اهم سمجھ كر ان ميں الجھا هوا تھااس دن وه بالكل بے حقيقت نظر آئيں گے۔ وہ جن چیزوں پر بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ سب اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے۔ وہ جن امیدوں پر جی رہا تھا وہ سب جھوٹی خوش خیالیاں ثابت ہوں گی۔ آخرت کا مسئلہ آج محض ایک نظریہ ہے، وہ بظاہر کوئی سنگین مسئلہ نہیں۔ اس ليے آدمی اس کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتا۔ مگر موت کے بعد آنے والی زندگی میں جب آخرت اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ پھٹ پڑے گی، اس وقت ہر آدمی اس بات کو ماننے پر مجبور ہوگا جس کو وہ اس سے پہلے ماننے پر تیار نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ اس سے پہلے جو بات دلیل کی زبان میں کہی جارہی تھی وہ عین حقیقت تھی مگر میں اس کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوسکا اس لیے میں اس کو سمجھ بھی نہ پایا۔ جب وہ تمام چیزیں آدمی کا ساتھ چھوڑ دیں گی جن کو وہ دنیا میں اپنا سہارا بنائے ہوئے تھا تو وہ چاہے گا کہ دنیا میں اسے دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ صحیح زندگی گزارے۔ مگر زندگی کا یہ موقع کسی کو دوبارہ ملنے والا نہیں۔


Connections

  • Previous: 7_52
  • Next: 7_54
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes