Recitation
Next: 7_72
Arabic
قَالَ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُمۡ رِجۡسٞ وَغَضَبٌۖ أَتُجَٰدِلُونَنِي فِيٓ أَسۡمَآءٖ سَمَّيۡتُمُوهَآ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُم مَّا نَزَّلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلۡطَٰنٖۚ فَٱنتَظِرُوٓاْ إِنِّي مَعَكُم مِّنَ ٱلۡمُنتَظِرِينَ
Urdu
اس نے کہا “تمہارے رب کی پھٹکار تم پر پڑ گئی اور اس کا غضب ٹوٹ پڑا کیا تم مجھ سے اُن ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، جن کے لیے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
English
[Hud] said, “Already have defilement and anger fallen upon you from your Lord. Do you dispute with me concerning [mere] names you have named them, you and your fathers, for which Allah has not sent down any authority? Then wait; indeed, I am with you among those who wait
Tafsir — Bayan ul Quran
انسان ناموں کے ذریعہ کسی چیز کا تصور قائم کرتاہے۔ کسی شخص کے ساتھ اچھا لفظ لگ جائے تو وہ اچھا معلوم ہوتا ہے اور اگر برا لفظ لگ جائے تو برا دکھائی دینے لگتاہے۔ خدا کے سوا دوسری چیزیں یا ہستیاں جوآدمی کی توجہات کا مرکز بنتی ہیں اس کی وجہ بھی یہی نام ہوتے ہیں۔ لوگ کسی شخصیت کو غوث پاک، گنج بخش، غریب نواز، مشکل کشا جیسے الفاظ سے پکارنے لگتے ہیں۔ یہ الفاظ دھیرے دھیرے ان شخصیتوں کے ساتھ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ لوگ یقین کرلیتے ہیں کہ جس کو غوث (فریاد رس) کہاجاتا ہے وہ واقعی فریاد کو پہنچنے والا ہے اور جس کو مشکل کشا کے نام سے پکارا جاتا ہے ہے سچ مچ وہ مشکلوں کو حل کرنے والا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام نام صرف انسانوں کے رکھے ہوئے ہیں۔ ان ناموں کا کوئی مسمّی کہیں موجود نہیں۔ ان کے حق میں نہ کوئی شرعی دلیل ہے اور نہ کوئی عقلی دلیل۔ ناموں کی شریعت کی ایک قسم وہ ہے جو جاہل انسانوں کے درمیان رائج ہے۔ تاہم اس کی ایک زیادہ مہذب صورت بھی ہے جو تعليم يافته لوگوں کے درمیان مقبول ہے۔ یہاں بھی کچھ شخصیتوں کے ساتھ کچھ غیر معمولی الفاظ وابستہ کرديے جاتے ہیں۔ مثلاً قدسی صفات، محبوب خدا، ستون اسلام، نجات دہندہ ملت وغیرہ۔ اس قسم کے الفاظ دھیرے دھیرے مذکورہ شخصیتوں کے نام کا جزء بن جاتے ہیں۔ لوگ ان شخصیتوں کو ویسا ہی غیر معمولی سمجھ لیتے ہیں جیسا کہ ان کو ديے ہوئے نام سے ظاہر ہوتاہے۔ جو چیز ’’باپ دادا‘‘سے چلی آرہی ہو، بالفاظ دیگر جس نے تاریخی اہمیت حاصل کرلی ہو اور طویل روایات کے نتیجہ میں جس کے ساتھ ماضی کا تقدس شامل ہوگیا ہو وہ لوگوں کی نظر میں ہمیشہ عظیم ہوجاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں ’’آج‘‘ کے داعی کی بات ہلکی دکھائی دیتی ہے۔ وہ حال کے داعی کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان کو اعتماد ہوتاہے کہ وہ اسلام کی عظمتوں کے وارث ہیں پھر کون ان کا کچھ بگاڑ سکتاہے۔ خدا کے معاملہ ميں ڈھٹائی آدمی کو دھیرے دھیرے بے حس بنا دیتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ وہ نصیحت اور یاد دہانی کی زبان میں کوئی اصلاح قبول کرسکے۔ ایسے لوگ گویا اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا عذاب کی زبان میں ان کے سامنے ظاہر ہو۔