Recitation
Next: 7_86
Arabic
وَإِلَىٰ مَدۡيَنَ أَخَاهُمۡ شُعَيۡبٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ قَدۡ جَآءَتۡكُم بَيِّنَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡۖ فَأَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَٱلۡمِيزَانَ وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ بَعۡدَ إِصۡلَٰحِهَاۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
Urdu
اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا اس نے کہا “اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف رہنمائی آ گئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو، لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے، اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو
English
And to [the people of] Madyan [We sent] their brother Shu’ayb. He said, “O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. There has come to you clear evidence from your Lord. So fulfill the measure and weight and do not deprive people of their due and cause not corruption upon the earth after its reformation. That is better for you, if you should be believers
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت ابراہیم کے ایک صاحب زادہ مدیان تھے جو آپ کی تیسری بیوی قطورہ سے پیدا ہوئے۔ اہل مدین انھیں کی نسل سے تھے۔ یہ قوم بحر احمر کے عرب ساحل پر آباد تھی۔ یہ لوگ خدا کو ماننے والے تھے اور اپنے کو دین ابراہیمی کا حامل سمجھتے تھے۔ مگر حضرت ابراہیم کے پانچ سو سال بعد ان کے اندر بگاڑ آگیا۔ یہ ایک تجارت پیشہ قوم تھی اور اس کے بگاڑ کا سب سے زیادہ اظہار اسی پہلو سے ہوا۔ وہ ناپ تول اور لین دین میں دیانت داری کے اصولوں پر پوری طرح قائم نہیں رہے۔ دوسرے سے معاملہ کرنے میں بے انصافی خداکے قائم کردہ نظام اصلاح کے خلاف ہے۔ خدانے اپنی دنیا کا نظام کامل انصاف پر قائم کیاہے۔ یہاںکوئی بھی چیز ایسی نہیں جو لیتے وقت دوسرے سے زیادہ لے اوردیتے وقت دوسرے کو کم دے۔ یہاںہرچیز حسابی صحت کی حد تک انصاف کے اصول پر قائم ہے۔ ایسی حالت میںانسان کو بھی وہی کرنا چاہیے جو اس کے گرد وپیش کی ساری کائنات کررہی ہے۔ ایسا نہ کرنا خدا کی اصلاح یافتہ دنیا میں فساد برپا کرنا ہے۔ اہلِ مدین کا معاملاتی بگاڑ جب بہت بڑھ گیا تو خدا نے حضرت شعیب کو ان کی طرف اپنا پیغام لے کر بھیجا۔ آپ نے ان کو بتایا کہ معاملات میں راستی اور دیانت داری کا طریقہ اختیار کرو۔ آپ نے کھلے کھلے دلائل کے ذریعے ان کو آخری حد تک باخبر کردیا۔ مگر وہ نصیحت قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ حتی کہ ان کا حال یہ ہوا کہ خود حضرت شعیب کی دعوت کو مٹانے پر تل گئے۔ وہ آپ کی باتوں میں طرح طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو آپ کے بارے میں غلط فہمی میں ڈالتے۔ وہ جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے کوشش کرتے کہ لوگ آپ کا ساتھ نہ دیں۔ بالآخر ان پر خدائی عذاب آیا اور وہ تباہ کرديے گئے۔ بندوں کے حقوق کی رعایت اور باہمی معاملات کی درستگی خدا کی نظر میں اتنی زیادہ اہم ہے کہ اس کی مخالفت پر ایک قوم، ایمان کے دعوے دار ہونے کے باوجود تباہ کردی گئی۔ خدا بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اور بہتر فیصلہ جانب داری کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ یہ ممکن نہیں کہ خدا بے کلمہ والوں کو ان کی بے انصافی پر پکڑے اور کلمہ والوں کو ٹھیک اسی بے انصافی پر چھوڑدے۔