Recitation

Next: 7_96


Arabic

ثُمَّ بَدَّلۡنَا مَكَانَ ٱلسَّيِّئَةِ ٱلۡحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَواْ وَّقَالُواْ قَدۡ مَسَّ ءَابَآءَنَا ٱلضَّرَّآءُ وَٱلسَّرَّآءُ فَأَخَذۡنَٰهُم بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ


Urdu

پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ “ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں” آخر کار ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی


English

Then We exchanged in place of the bad [condition], good, until they increased [and prospered] and said, “Our fathers [also] were touched with hardship and ease.” So We seized them suddenly while they did not perceive


Tafsir — Bayan ul Quran

حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ یہاںتک کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجاتاہے۔ اور منافق کی مثال گدھے کی طرح ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے مالک نے کس ليے اس کو باندھا اور کیوں اس کو چھوڑ دیا (لَا يَزَال الْبَلَاء بِالْمُؤْمِنِ حَتَّى يَخْرُج نَقِيًّا مِنْ ذُنُوبه وَالْمُنَافِق مَثَله كَمَثَلِ الْحِمَار لَا يَدْرِي فِيمَ رَبَطَهُ أَهْله وَلَا فِيمَ أَرْسَلُوهُ )تفسیر ابن کثیر، جلد3، صفحہ 450۔ خدا انسان کے اوپر مختلف قسم کی تکلیفیں ڈالتا ہے تاکہ اس کا دل نرم ہو۔ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر اس کا اعتماد ٹوٹ جائے، اس کا وہ گھمنڈ جاتا رہے جو آدمی کے ليے اپنے سے باہر کسی سچائی کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس طرح خدائی انتظام کے تحت آدمی کے اندر کمی اور بے چارگی کی نفسیات پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ حق کی آواز پر کان لگائے۔ خدا کا یہ معاملہ عام لوگوں کے ساتھ بھی ہوتاہے اور پیغمبر کے مخاطب گروہ کے ساتھ بھی۔ تاہم یہ معاملہ سنت الٰہی کے تحت التباس واشتباہ کے پردہ میں ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی آفت آتی ہے تو وہ اسباب وعلل کے روپ میں آتی ہے۔ یہ صورت حال بہت سے لوگوں کے ليے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ یہ تو ایک ہونے والی بات تھی جو ہوئی۔ پھر جب وہ مصیبتوں سے اثر نہیں لیتے تو خدا ان کے حالات بدل کر ان کو خوش حالی میں مبتلا کردیتا ہے۔ اب اس قسم کے لوگ اور بھی زیادہ مغالطہ میں پڑجاتے ہیں۔ ان کو یقین ہوجاتاہے کہ یہ محض حوادث روزگار کی بات تھی۔یہ وہی عام اتار چڑھاؤ تھا جو ہمیشہ لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہم کو برے دن کے بعد اچھے دن دیکھنے کو ملے۔ وہ پہلی تنبیہ سے بھی سبق لینے سے محروم رہتے ہیں اور دوسری تنبیہ سے بھی۔ سرکشی کے بعد کسی کو ترقی ملنا سخت خطرناک ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا نے اس کو ایسی حالت میں پکڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے جب کہ وہ اپنے پکڑے جانے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بے خوف ہوچکا ہو۔ ایمان اور تقویٰ کی زندگی کا فائدہ اگر چہ اصلاً آخرت میں ملنے والا ہے۔ تاہم خدا اگر چاہتا ہے تو دنیا میں بھی وہ ایسے لوگوں کو فراخی اور عزت کی صورت میں ان کے عمل کا ابتدائی انعام دے دیتا ہے۔


Connections

  • Previous: 7_94
  • Next: 7_96
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes