Recitation
Next: 71_8
Arabic
وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوۡتُهُمۡ لِتَغۡفِرَ لَهُمۡ جَعَلُوٓاْ أَصَٰبِعَهُمۡ فِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَٱسۡتَغۡشَوۡاْ ثِيَابَهُمۡ وَأَصَرُّواْ وَٱسۡتَكۡبَرُواْ ٱسۡتِكۡبَارٗا
Urdu
اور جب بھی میں نے اُن کو بلایا تاکہ تو اُنہیں معاف کر دے، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا
English
And indeed, every time I invited them that You may forgive them, they put their fingers in their ears, covered themselves with their garments, persisted, and were arrogant with [great] arrogance
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔ حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔