Recitation

Next: 8_43


Arabic

إِذۡ أَنتُم بِٱلۡعُدۡوَةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُم بِٱلۡعُدۡوَةِ ٱلۡقُصۡوَىٰ وَٱلرَّكۡبُ أَسۡفَلَ مِنكُمۡۚ وَلَوۡ تَوَاعَدتُّمۡ لَٱخۡتَلَفۡتُمۡ فِي ٱلۡمِيعَٰدِ وَلَٰكِن لِّيَقۡضِيَ ٱللَّهُ أَمۡرٗا كَانَ مَفۡعُولٗا لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٖ وَيَحۡيَىٰ مَنۡ حَيَّ عَنۢ بَيِّنَةٖۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ


Urdu

یاد کرو وہ وقت جبکہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دُوسری جانب پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل) کی طرف تھا اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرارداد ہو چکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کر جاتے، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا اسے ظہُور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً خدا سُننے والا اور جاننے والا ہے


English

[Remember] when you were on the near side of the valley, and they were on the farther side, and the caravan was lower [in position] than you. If you had made an appointment [to meet], you would have missed the appointment. But [it was] so that Allah might accomplish a matter already destined - that those who perished [through disbelief] would perish upon evidence and those who lived [in faith] would live upon evidence; and indeed, Allah is Hearing and Knowing


Tafsir — Bayan ul Quran

اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا لوگوں پر پوری طرح کھل جائے۔ یہ کام ابتداء ً دعوت کے ذریعہ دلائل کی زبان میں ہوتا ہے۔ داعی طاقت ور اور عام فہم دلائل کے ذریعہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کرتاہے۔ احقاق حق اور ابطال باطل کے اس کام کی تکمیل بالآخر غیر معمولی واقعات سے کی جاتی ہے، خواہ یہ غیر معمولی واقعہ کوئی آسمانی معجزہ ہو یا زمیني غلبہ۔ بدر کی جنگ میں یہی دوسرا واقعہ پیش آیا۔ قریش مکہ سے اس ليے نکلے کہ شام سے آنے والے اپنے تجارتی قافلہ کی مدد کریں۔ مسلمان مدینہ سے اس ليے نکلے کہ تجارتی قافلہ پر حملہ کریں۔ تجارتی قافلہ معروف راستہ کو چھوڑ کر سمندری ساحل سے گزرا اور بچ گیا۔ اور یہ دونوں فریق بدر پہنچ کر آمنے سامنے ہوگئے۔ یہ اللہ کی تدبیر سے ہوا۔ دونوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر اہل ایمان کو فتح دی گئی۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مشن کی صداقت لوگوں پر پوری طرح کھل گئی۔ جو لوگ سچے طالب تھے ان پر آخری حد تک یہ بات واضح ہوگئی کہ یہی حق ہے۔ اور جو لوگ اپنے اندر کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی ليے ہوئے تھے انھوں نے اس کے بعد بھی اپنے مسلک پر قائم رہ کر ثابت کردیا کہ وہ اسی قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔ بدر میں قریش کی فوج کی تعداد زیادہ تھی۔ اگر مسلمان ان کی اصل تعداد کو دیکھتے تو کوئی کہتا کہ لڑو اور کوئی کہتا کہ نہ لڑو۔ اس طرح اختلاف پیدا ہوجاتا اور اصل کام ہونے سے رہ جاتا۔ خدا نے حسب موقع کبھی تعداد گھٹا کر دکھائی اور کبھی بڑھا کر۔ اس طرح ممکن ہوسکا کہ تمام مسلمان بے جگری کے ساتھ لڑیں۔ خدا کو جب کوئی کام مطلوب ہوتا ہے تو وہ اسی طرح اپنی مدد بھیج کر اس کام کی تکمیل کا سامان کردیتا ہے۔ عمل کے دوران جو حالات پیش آتے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور یہ دیکھنے کے ليے ہوتے ہیں کہ کس شخص نے اپنے حالات کے اندر کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔


Connections

  • Previous: 8_41
  • Next: 8_43
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes