Recitation
Next: 9_101
Arabic
وَٱلسَّـٰبِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ مِنَ ٱلۡمُهَٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحۡسَٰنٖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُ وَأَعَدَّ لَهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي تَحۡتَهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
Urdu
وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیز وہ جو بعد میں راستبازی کے ساتھ پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہی عظیم الشان کامیابی ہے
English
And the first forerunners [in the faith] among the Muhajireen and the Ansar and those who followed them with good conduct - Allah is pleased with them and they are pleased with Him, and He has prepared for them gardens beneath which rivers flow, wherein they will abide forever. That is the great attainment
Tafsir — Bayan ul Quran
خدا کے دین کی دعوت جب بھی شروع کی جائے تودو میں سے کوئی ایک صورت پیش آتی ہے۔ یا تو ماحول اس کا دشمن ہوجاتا ہے۔ ایسے ماحول میں دین کے ليے پکارنے والے اجنبی بن جاتے ہیں ۔ وہ اپنی جگہ کے اندر بے جگہ کرديے جاتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو مہاجر (چھوڑنے والا) کہا جاتاہے۔ دوسری صورت وہ ہے جب کہ ماحول خدا کے دین کی دعوت کے ليے سازگار ثابت ہو۔ ایسے ماحول میں جو لوگ دین کے داعی بنتے ہیں ان کے ساتھ یہ حادثہ پیش نہیں آتا کہ ان کا سب کچھ ان سے چھن جائے۔ یہ دوسری قسم کے لوگ اگر ایسا کریں کہ وہ پہلے لوگوں کا سہارا بن کر کھڑے ہو جائیں تو یہی انصار (مدد کرنے والے) قرار پاتے ہیں ۔ دورِ اول میں مکہ کے حالات نے وہاں کے مسلمانوں کو مہاجر بنا دیا اور مدینہ کے حالات نے وہاں کے مسلمانوں کو انصارکی حیثیت دے دی۔ خدا کی رضامندی اور اس کی جنت کسی آدمی کو یا تو مہاجر بننے کی قیمت پر ملتی ہے یا انصار بننے کی قیمت پر۔ یا تو وہ خدا کے ليے اتنا یکسو ہوکہ دنیا کے سرے اس سے چھوٹ جائیں ۔ یا اگر وہ اپنے کو صاحب وسائل پاتا ہے تو اپنے وسائل کے ذریعہ وہ اول الذکر گروہ کی محرومی کا بدل بن جائے۔ دورِ اول کے مسلمان (صحابہ کرام) اس ہجرت ونصرت کاکامل نمونہ تھے۔ بعد کے مسلمانوں میں جو لوگ اس ہجرت ونصرت کے معاملہ میں اپنے پیش روؤں کی تقلید کریں گے وہ بالتبع اس مقدس خدائی گروہ میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔ خدا کچھ لوگوں کومحروم کرتا ہے تاکہ ان کے اندر اِنابت کا جذبہ ابھرے اسی طرح خدا کچھ لوگوں کو محرومی سے بچاتاہے تاکہ وہ محروموں کی مدد کرکے خدا کے ليے خرچ کرنے والے بنیں ۔ یہ خدا کا منصوبہ ہے۔ جو لوگ اس کا ثبوت نہ دیں ، وہ ایسے لوگ ہیں ، جو خدا کے منصوبہ پر راضی نہ ہوئے۔ اس ليے خدا بھی آخرت کے دن ان سے راضی نہ ہوگا۔ ’’وہ اللہ سے راضی ہوگئے‘‘ یعنی جس کو اللہ نے ایسے حالات میں اٹھایا کہ اس کو سب کچھ چھوڑنے کی قیمت پر دین کو اختیار کرنا پڑا تو وہ اس میں ثابت قدم رہا۔ اسی طرح جس کے حالات کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ اپنے اثاثہ میں ایسے دینی بھائیوں کو شریک کرے جن سے اس کا تعلق صرف مقصد کا ہے، نہ کہ رشتہ داری کا تو وہ بھی اس پر راضی ہوگیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی خوشی حاصل کی اور یہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے ابدی باغوں میں داخل كيے جائیں گے۔ منافق وہ ہے جو مسلمان ہونے کا دعوی کرے مگر جب ہجرت اور نصرت کی قیمت پر دین دار بننے کا سوال ہو تو اس کے ليے اپنے کو راضی نہ کرسکے۔