Recitation

Next: 9_103


Arabic

وَءَاخَرُونَ ٱعۡتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمۡ خَلَطُواْ عَمَلٗا صَٰلِحٗا وَءَاخَرَ سَيِّئًا عَسَى ٱللَّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ


Urdu

کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کر لیا ہے ان کا عمل مخلوط ہے، کچھ نیک ہے اور کچھ بد، بعید نہیں کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہو جائے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے


English

And [there are] others who have acknowledged their sins. They had mixed a righteous deed with another that was bad. Perhaps Allah will turn to them in forgiveness. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful


Tafsir — Bayan ul Quran

کچھ ایسے لوگ ہیں جن کی طبیعتوں میں اگرچہ شر نہیں ہوتا۔ وہ معمول والے دینی اعمال بھی کرتے رہتے ہیں ۔ مگر جب دین کا کوئی ایسا تقاضا سامنے آتاہے جس میں اپنے بنے ہوئے نقشہ کو توڑ کر دین دار بننے کی ضرورت ہو تو وہ اپنی زندگی اور مال کو اس طرح دین کے ليے نہیں دے پاتے جس طرح انھیں دینا چاہیے۔ قوتِ فیصلہ کی کمزوری یا دنیا میں ان کی مشغولیت ان کے ليے دین کی راہ میں اپنا حصہ ادا کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں ۔ ایسے لوگ اگرچہ قصور وار ہوتے ہیں تاہم ان کا قصور اس وقت معاف کردیا جاتا ہے جب کہ یاد دہانی کے بعد وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرلیں اور شرمندگی کے احساس کے ساتھ دوبارہ دین کی طرف لوٹ آئیں ۔ اعتراف اور شرمندگی کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے اندر از سرنو دینی خدمت کا جذبہ پیدا ہو۔ وہ اپنے احساسِ گناہ کو دھونے کے ليے اپنے محبوب مال کا ایک حصہ خدا کی راہ میں پیش کریں ۔ جب ان کی طرف سے ایسا رد عمل ظاہر ہو تو پیغمبر کو تلقین کی گئی کہ اب انھیں ملامت نہ کرو بلکہ ان کو نفسیاتی سہارا دینے کی کوشش کرو۔ ان کو دعائیں دو تاکہ ان کے دل کا بوجھ دوبارہ ایمانی عزم و اعتماد میں تبدیل ہوجائے۔ خدا کے نزدیک اصل برائی غلطی کرنا نہیں ہے بلکہ غلطی پر قائم رہنا ہے۔ جو آدمی غلطی کرنے کے بعد اس کی تاویلیں ڈھونڈنے لگے وہ برباد ہوگیااور جو شخص غلطی کا اعتراف کرکے اپنی اصلاح کرلے وہ خداکے نزدیک قابل معافی ٹھہرا۔ غلطی کرنے کے بعد آدمی ہمیشہ دو امکانات کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرلے۔ دوسرا یہ کہ وہ ڈھٹائی کرنے لگے، جو شخص اپنی غلطی کا اعتراف کرلے اس کے اندر تواضع پیدا ہوتی ہے۔ وہ دوبارہ خدا کی رحمتوں کا مستحق بن جاتاہے۔ اس کے برعکس، جو شخص ڈھٹائی کا طریقہ اختیار کرے وہ گویا خدا کے غضب کے راستہ پر چل پڑا۔ وہ اپنے کو بے خطا ثابت کرنے کے ليے جھوٹی تاویلیں کرے گا۔ ایک غلطی کو نبھانے کے ليے وہ دوسری بہت سی غلطیاں کرتا چلا جائے گا۔ پہلے شخص کے ليے خدا کی رحمت ہے اور دوسرے شخص کے ليے خدا کی سزا۔


Connections

  • Previous: 9_101
  • Next: 9_103
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes