Recitation

Next: 9_25


Arabic

قُلۡ إِن كَانَ ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ وَإِخۡوَٰنُكُمۡ وَأَزۡوَٰجُكُمۡ وَعَشِيرَتُكُمۡ وَأَمۡوَٰلٌ ٱقۡتَرَفۡتُمُوهَا وَتِجَٰرَةٞ تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا وَمَسَٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَآ أَحَبَّ إِلَيۡكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَجِهَادٖ فِي سَبِيلِهِۦ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّىٰ يَأۡتِيَ ٱللَّهُ بِأَمۡرِهِۦۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ


Urdu

اے نبیؐ، کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے، اور تمہارے بھائی، اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کما ئے ہیں، اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے، اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا


English

Say, [O Muhammad], “If your fathers, your sons, your brothers, your wives, your relatives, wealth which you have obtained, commerce wherein you fear decline, and dwellings with which you are pleased are more beloved to you than Allah and His Messenger and jihad in His cause, then wait until Allah executes His command. And Allah does not guide the defiantly disobedient people


Tafsir — Bayan ul Quran

لوگوں کے ليے اپنا خاندان، اپنی جائداد، اپنے معاشی مفادات سب سے قیمتی ہوتے ہیں ۔ انھیں چیزوں کو وہ سب سے زیادہ اهم سمجھتے ہیں ۔ ہر دوسری چیز کے مقابلہ میں وہ ان کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنا سب کچھ ان کے اوپر نثار کردیتے ہیں ۔ اس قسم کی زندگی دنیا دارانہ زندگی ہے۔ ایسا آدمی جو کچھ پاتا ہے بس اسی دنیا میں پاتا ہے۔ موت کے بعد والی ابدی دنیا میں اس کے ليے کچھ نہیں ۔ اس کے برعکس، دوسری زندگی وہ ہے جب کہ آدمی اللہ اور رسول کو اور اللہ کی راہ میں جدوجہد کو سب سے زیادہ اہمیت دے اور اس کی خاطر دوسری ہر چیز چھوڑنے کے لیے تیار رہے۔ یہی دوسری زندگی خدا پرستانہ زندگی ہے اور ایسے ہی لوگوں کے ليے آخرت میں ابدی جنتوں کے دروازے کھولے جائیں گے۔ ایک زندگی وہ ہے، جو دنیوی تعلقات اور دنیوی مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ دوسری زندگی وہ ہے جو ایمان کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ دونوں میں سے جس چیز کو بھی آدمی اپنی زندگی کی بنیاد بنائے، وہ ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ وہ اس کی خاطر دوسری چیزوں کو چھوڑ دے۔ وہ کچھ لوگوں سے تعلق قائم کرے اور کچھ دوسرے لوگوں سے بے تعلق ہوجائے۔ وہ کچھ چیزوں کی بقاء اور ترقی میں اپنی ساری توجہ لگادے اور کچھ دوسری چیزوں کی بقاء اور ترقی کے معاملہ میں بے پروا بنا رہے۔ کچھ نقصانات اس کو کسی قیمت پر گوارا نہ ہوں ، وہ جان پر کھیل کر اپنا بہترین سرمایہ خرچ کرکے ان کو بچانے کی کوشش کرے اور کچھ دوسرے نقصانات کو وہ اپنی آنكھوں سے دیکھے مگر ان کے بارے میں اس کے اندر کوئی تڑپ پیدا نہ ہو۔ دنیا ہمیشہ ان لوگوں ملتی ہے جو دنیا کی خاطر اپنا سب کچھ لگا دیں ۔ اسی طرح آخرت صرف ان لوگوں کے حصہ میں آئے گی جو آخرت کی خاطر دوسری چیزوں کو قربان کردیں ۔ ترجیح (ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرنے کا معاملہ) انتہائی سنگین ہے۔ حتی کہ وہی آدمی کے کفر وایمان کا فیصلہ کرتا ہے۔ خدا کی دنیا میں جس طرح کھلے کافروں کے ليے کامیابی مقدر نہیں ہے اسی طرح ان لوگوں کے ليے بھی یہاں کامیابی کا کوئی امکان نہیں ، جو ایمان کا دعویٰ کریں اور جب نازک موقع آئے تو وہ آخرت پسندانہ روش کے مقابلہ میں دنیا دارانہ روش کو ترجیح دیں ۔ ایسے مدعیانِ ایمان اگر اپنے بارے میں خوش فہمی میں مبتلا ہوں تو ان کو اس وقت معلوم ہوجائے گا جب اللہ اپنا فیصلہ ظاہر کردے گا۔


Connections

  • Previous: 9_23
  • Next: 9_25
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes