Recitation
Next: 9_4
Arabic
وَأَذَٰنٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوۡمَ ٱلۡحَجِّ ٱلۡأَكۡبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِيٓءٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ وَرَسُولُهُۥۚ فَإِن تُبۡتُمۡ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۖ وَإِن تَوَلَّيۡتُمۡ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي ٱللَّهِۗ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
Urdu
اطلاع عام ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج اکبر کے دن تمام لوگوں کے لیے کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اُس کا رسول بھی اب اگر تم لوگ توبہ کر لو تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے اور جو منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو اور اے نبیؐ، انکار کرنے والوں کو سخت عذاب کی خوشخبری سنا دو
English
And [it is] an announcement from Allah and His Messenger to the people on the day of the greater pilgrimage that Allah is disassociated from the disbelievers, and [so is] His Messenger. So if you repent, that is best for you; but if you turn away - then know that you will not cause failure to Allah. And give tidings to those who disbelieve of a painful punishment
Tafsir — Bayan ul Quran
موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے بسنے کا جو موقع دیاگیا ہے وہ کسی حق کی بنا پر نہیں ہے بلکہ محض آزمائش کے ليے ہے۔ خدا جب تک چاہتا ہے کسی کو اس زمین پر رکھتا ہے او ر جب اس کے علم کے مطابق اس کی مدت امتحان پوری ہوجاتی ہے تو اس پر موت وارد کرکے اس کو یہاں سے اٹھا لیا جاتا ہے۔ یہی معاملہ پیغمبر کے مخاطبین کے ساتھ دوسری صورت میں کیا جاتاہے۔ پیغمبر جن لوگوں کے درمیان آتاہے ان پر وہ آخری حد تک حق کی گواہی دیتا ہے۔ پیغمبر کے دعوتی کام کی تکمیل کے بعد جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ خدا کی زمین پر زندہ رہنے کا حق کھودیتے ہیں ۔ وہ آزمائش کی غرض سے یہاں رکھے گئے تھے۔ اتمام حجت نے آزمائش کی تکمیل کردی۔ پھر اس کے بعد زندگی کا حق کس ليے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے کام کی تکمیل کے بعد ان کے اوپر کوئی نہ کوئی ہلاکت خیز آفت آتی ہے اور ان کا استیصال کردیا جاتاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ مگر ان پر کوئی آسمانی آفت نہیں آئی۔ ان کے اوپر خدا کی مذکورہ سنت کا نفاذ اسباب کے نقشہ میں کیاگیا ہے۔ اولاً قرآن کے برتر اسلوب اور پیغمبر کے اعلیٰ کردار کے ذریعہ ان کو دعوت پہنچائی گئی۔ پھر اہلِ توحید کو مکہ کے اہلِ شرک پر غالب کرکے ان کے اوپر اتمام حجت کردیاگیا۔ جب یہ سب کچھ ہوچکا اور اس کے باوجود وہ انکار کی روش پر قائم رہے تو ان کو مسلسل خیانت اور عہد شکنی کا مجرم قرار دے کر ان کو الٹی میٹم دياگیا کہ چار ماہ کے اندر اپنی اصلاح کرلو، ورنہ مسلمانوں کی تلوار سے تمھارا خاتمہ کردیا جائے گا۔ پھر یہ سارا معاملہ تقویٰ کے اصول پر کیاگیا، نہ کہ قومی سیاست کے اصول پر— مشرکین کو دلائل کے میدان میں لاجواب کردیاگیا، ان کو پیشگي انتباہ کے ذریعہ کئی مہینہ تک سوچنے کا موقع دیاگیا۔ آخر وقت تک ان کے ليے دروازہ کھلا رکھا گیا کہ جو لوگ توبہ کرلیں وہ خدا کے انعام یافتہ بندوں میں شامل ہوجائیں ۔ جن بعض قبائل نے معاہدہ نہیں توڑا تھا ان کے معاملہ کو معاہدہ توڑنے والوں سے الگ رکھاگیا، وغیرہ۔