Recitation
Next: 9_55
Arabic
وَمَا مَنَعَهُمۡ أَن تُقۡبَلَ مِنۡهُمۡ نَفَقَٰتُهُمۡ إِلَّآ أَنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِٱللَّهِ وَبِرَسُولِهِۦ وَلَا يَأۡتُونَ ٱلصَّلَوٰةَ إِلَّا وَهُمۡ كُسَالَىٰ وَلَا يُنفِقُونَ إِلَّا وَهُمۡ كَٰرِهُونَ
Urdu
ان کے دیے ہوئے مال قبول نہ ہونے کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے، نماز کے لیے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں اور راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو بادل ناخواستہ خرچ کرتے ہیں
English
And what prevents their expenditures from being accepted from them but that they have disbelieved in Allah and in His Messenger and that they come not to prayer except while they are lazy and that they do not spend except while they are unwilling
Tafsir — Bayan ul Quran
مدینہ میں یہ صورت پیش آئی کہ عمومی طورپر لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ان میں اکثریت مخلص اہل ایمان کی تھی تاہم ایک تعداد وہ تھی جس نے وقت کی فضا کا ساتھ دیتے ہوئے اگرچہ اسلام قبول کرلیا تھا لیکن اس کے اندر وہ سپردگی پیدا نہیں ہوئی تھی جو حقیقی ایمان اور سچے تعلق باللہ کا تقاضا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو منافقین کہاجاتا ہے۔ يه منافقین زیادہ تر مدینہ کے مال دار لوگ تھے اور یہی مال داری ان کے نفاق کا اصل سبب تھی۔ جس کے پاس کھونے کے ليے کچھ نہ ہو وہ زیادہ آسانی کے ساتھ اسلام کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے جس میں اپنا سب کچھ کھو دینا پڑے۔ مگر جن لوگوں کے پاس کھونے کے ليے ہو وہ عام طورپر مصلحت اندیشی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ اسلام کے بے ضرر احکام کی تعمیل تو وہ کسی نہ کسی طرح کرلیتے ہیں ۔ مگر اسلام کے جن تقاضوں کو اختیار کرنے میں جان ومال کی محرومی دکھائی دے رہی ہو، جس میں قربانی کی سطح پر مومن بننے کا سوال ہو، ان کی طرف بڑھنے کے ليے وہ اپنے کو آمادہ نہیں کر پاتے۔ مگر قربانی والے اسلام سے پیچھے رہنا ان کے ’’نماز روزہ‘‘ کو بھی بے قیمت کردیتا ہے۔ مسجد کی عبادت کا بہت گہرا تعلق مسجدکے باہر کی عبادت سے ہے۔ اگر مسجد سے باہر آدمی کی زندگی حقیقی دین سے خالی ہو تو مسجد کے اندر بھی اس کی زندگی حقیقی دین سے خالی ہوگی اور ظاہر ہے کہ بے روح عمل کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں ۔ خدا سچے عمل کو قبول کرتا ہے، نہ کہ جھوٹے عمل کو۔ کسی آدمی کے پاس دولت کی رونقیں ہوں اور آدمیوں کا جـتھا اس کے گردو پیش دكھائی دیتا ہو تو عام لوگ اس کو رشک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ سب سے زیادہ بدقسمت لوگ ہیں ۔ عام طور پر ان کا جو حال ہوتا ہے وہ یہ کہ مال وجاہ ان کے ليے ایسے بندھن بن جاتے ہیں کہ وہ خدا کے دین کی طرف بھر پور طور پر نہ بڑھ سکیں ۔ وہ خدا کو بھول کر ان میں مشغول رہیں یہاں تک کہ موت آجائے اور وه بے رحمی کے ساتھ ان کو ان کے مال و جاہ سے جدا کردے۔