Recitation

Next: 9_7


Arabic

وَإِنۡ أَحَدٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٱسۡتَجَارَكَ فَأَجِرۡهُ حَتَّىٰ يَسۡمَعَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ أَبۡلِغۡهُ مَأۡمَنَهُۥۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَعۡلَمُونَ


Urdu

اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اُسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اُسے اس کے مامن تک پہنچا دو یہ اس لیے کرنا چاہیے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے


English

And if any one of the polytheists seeks your protection, then grant him protection so that he may hear the words of Allah. Then deliver him to his place of safety. That is because they are a people who do not know


Tafsir — Bayan ul Quran

مہلت کے چار مہینے گزرنے کے بعد یہاں جس جنگ کا حکم دیاگیا وہ کوئی عام جنگ نہ تھی یہ خدا کے قانون کے مطابق وہ عذاب تھا جو پیغمبر کے انکار کے نتیجہ میں ان پر ظاہر کیاگیا۔ انھوں نے اتمام حجت کے باوجود خدا کے پیغمبر کا انکار کرکے اپنے کو اس کا مستحق بنا لیا تھا کہ ان کے ليے تلوار یا اسلام کے سوا کوئی اور صورت باقی نہ رکھی جائے۔ یہ خدا کا ایک خصوصی قانون ہے جس کا تعلق پیغمبر کے مخاطبین سے ہے، نہ کہ عام لوگوں سے۔ تاہم اتمام حجت کے بعد بھی اس حکم کا نفاذ اچانک نہیں کیا گیا بلکہ آخری مرحلہ میں پھر انھیں چار ماہ کی مہلت دی گئی۔ انتقام معاف کرنا نہیں جانتا۔ انتقامی جذبہ کے تحت جوکارروائی کی جائے اس کو صرف اس وقت تسکین ملتی ہے جب کہ وہ اپنے حریف کو ذلیل اور برباد ہوتے ہوئے دیکھ لے۔ مگر عرب کے مشرکین کے خلاف جو کارروائی کی گئی اس کا تعلق کسی قسم کے انتقام سے نہیں تھا بلکہ وہ سراسر حقیقت پسندانہ اصول پر مبنی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے شدید حکم کے باوجود ان کے ليے یہ گنجائش ہر وقت باقی تھی کہ وہ دین اسلام کو اختیار کرکے اپنے کو اس سزا سے بچالیں اور اسلامی برادری میں عزت کی زندگی حاصل کرلیں ۔ کسی کی توبہ کے قابل قبول ہونے کے لیے صرف دو عملی شرط کا پایا جانا کافی ہے— نماز اور زکوٰۃ۔ جنگ کے دوران میں دشمن کا کوئی فرد یہ کہے کہ میں اسلام کو سمجھنا چاہتا ہوں تو مسلمانوں کو حکم ہے کہ اس کو امان دے کر اپنے ماحول میں آنے کا موقع دیں اور اسلام کے پیغام کو اس کے دل میں اتارنے کی کوشش کریں ۔پھر بھی اگر وہ قبول نہ کرے تو اپنی حفاظت میں اس کو اس کے ٹھکانے تک پہنچا دیں ۔ عام حکم کے تحت اگرچہ وہ گردن زدنی ہے مگر ایسا نہیں کیا جاسکتا کہ اس نے دین کی بات نہیں مانی ہے تو اس کو قتل کردیا جائے۔ جب کوئی شخص امان میں ہو تو امان کے دوران اس پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں ۔ جنگ کے زمانہ میں دشمن کو اس قسم کی رعایت دینا انتہائی نازک ہے۔ کیوں کہ عین ممکن ہے کہ دشمن کاکوئی جاسوس اس رعایت کا فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے اندر گھس آئے اور ان کے فوجی راز معلوم کرنے کی کوشش کرے۔ مگر اسلام کی نظر میں دعوت وتبلیغ کا مسئلہ اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس نازک خطرہ کے باوجو اس کا دروازہ بند نہیں کیا گیا۔ ایک شخص اگر بے خبری اور لاعلمی کی بنا پر ظلم کرے تو اس کا ظلم خواہ کتنا ہی زیادہ ہو مگر اسی کے ساتھ ہر ممکن رعایت کی جائے گی تا وقتیکہ اس کی لاعلمی اور بے خبری ختم ہوجائے۔


Connections

  • Previous: 9_5
  • Next: 9_7
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes