Recitation

Next: 9_91


Arabic

وَجَآءَ ٱلۡمُعَذِّرُونَ مِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ لِيُؤۡذَنَ لَهُمۡ وَقَعَدَ ٱلَّذِينَ كَذَبُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۚ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ


Urdu

بدوی عربوں میں سے بھی بہت سے لوگ آئے جنہوں نے عذر کیے تاکہ انہیں بھی پیچھے رہ جانے کی اجازت دی جائے اِس طرح بیٹھ رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے ایمان کا جھوٹا عہد کیا تھا ان بدویوں میں سے جن لوگوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا ہے عنقریب وہ دردناک سزا سے دوچار ہوں گے


English

And those with excuses among the bedouins came to be permitted [to remain], and they who had lied to Allah and His Messenger sat [at home]. There will strike those who disbelieved among them a painful punishment


Tafsir — Bayan ul Quran

دعوتِ دین کی جدوجہد جب لوگوں سے ان کی زندگی اور ان کے مال کا تقاضا کررہی ہو اس وقت صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود عذر کرکے بیٹھ رہنا بدترین جرم ہے۔ یہ دینی پکار کے معاملہ میں بے حسی کا ثبوت ہے۔ ایک مسلمان کے ليے اس قسم کا رویہ خدا اور رسول سے غداری کرنے کے ہم معنی ہے۔ ایسے لوگ خدا کی رحمتوں میں کوئی حصہ پانے کے حقدار نہیں ہیں ۔ ان کے پاس جو کچھ تھا اس کو جب انھوں نے خدا کے ليے پیش نہیں کیا تو خدا کے پاس جو کچھ ہے وہ کس ليے انھیں دے دے گا۔ قیمت ادا كيے بغیر کوئی چیز کسی کو نہیں مل سکتی۔ تاہم معذورین کے ليے خدا کے یہاں معافی ہے۔ جو شخص بیمار ہو، جس کے پاس خرچ کرنے کے ليے کچھ نہ ہو، جو اسباب سفر نہ رکھتاہو، ایسے لوگوں سے خدا در گزر فرمائے گا۔ یہی نہیں بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ نہ کرنے کے باوجود سب کچھ ان كے خانہ ميں لکھ دیا جائے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ غزوۂ تبوک سے واپس ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: مدینہ کچھ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم کوئی راستہ نہیں چلے اور تم نے کوئی وادی طے نہیں کی مگر وہ برابر تمھارے ساتھ رہے (إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا، مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا، وَلاَ قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ )صحیح البخاری، حدیث نمبر 4423۔ یہ خوش قسمت لوگ کون ہیں جو نہ کرنے کے باوجود کرنے کا انعام پاتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو معذور ہونے کے ساتھ تین باتوں کا ثبوت دیں — نصح، یعنی عملی شرکت نہ کرتے ہوئے بھی قلبی شرکت۔ احسان، یعنی عدم شرکت کے باوجود کم از کم زبان سے ان کے بس میں جو کچھ ہے اس کو پوری طرح کرتے رہنا۔ حزن، یعنی اپنی کوتاہی پر اتنا شدید رنج جو آنسوؤں کی صورت میں بہہ پڑے۔ کوئی آدمی جب اپنی عملی زندگی میں ایک چیز کو غیر اہم درجہ میں رکھے اور بار بار ایسا کرتا رہے تو اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ اس چیز کی اہمیت کا احساس اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ اس چیز کے تقاضے اس کے سامنے آتے هيں مگر دل کے اندر اس کے بارے میں تڑپ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کی طرف بڑھ نہیں پاتا۔ یہ وہی چیز ہے جس کو بے حسی کہاجاتا ہے اور اسی کو قرآن میں دلوں پر مہر کرنے سے تعبیر کیاگیا ہے۔


Connections

  • Previous: 9_89
  • Next: 9_91
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes