Recitation

Next: 9_99


Arabic

وَمِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغۡرَمٗا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ ٱلدَّوَآئِرَۚ عَلَيۡهِمۡ دَآئِرَةُ ٱلسَّوۡءِۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٞ


Urdu

ان بدویوں میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو راہ خدا میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو اسے اپنے اوپر زبردستی کی چٹی سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں زمانہ کی گردشوں کا انتظار کر رہے ہیں (کہ تم کسی چکر میں پھنسو تو وہ اپنی گردن سے اس نظام کی اطاعت کا قلادہ اتار پھینکیں جس میں تم نے انہیں کس دیا ہے) حالانکہ بدی کا چکر خود انہی پر مسلط ہے اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے


English

And among the bedouins are some who consider what they spend as a loss and await for you turns of misfortune. Upon them will be a misfortune of evil. And Allah is Hearing and Knowing


Tafsir — Bayan ul Quran

حدیث میں آیا ہے کہ جس نے دیہات میں سکونت اختیار کی وہ سخت مزاج ہوجائے گا (مَنْ سَكَنَ البَادِيَةَ جَفَا) سنن الترمذی، حدیث نمبر 2256۔ شہر کے اندر علمی ماحول ہوتا ہے، تعلیمی ادارے قائم ہوتے ہیں ۔ وہاں علم وفن کا چرچا رہتا ہے۔ جب کہ دیہات میں لوگوں کو اس کے مواقع حاصل نہیں ہوتے۔ اسی کے ساتھ دیہات کے لوگوں کے رہن سہن کے طریقے اور ان کے معاشی ذرائع بھی نسبتاً معمولی ہوتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دیہات کے لوگوں کے اندر زیادہ گہرا شعور پیدا نہیں ہوتا۔ ان کی طبیعت میں سختی اور ان کے سوچنے کے انداز میں سطحیت پائی جاتی ہے۔ ان کے ليے مشکل ہوتا ہے کہ وہ دین کی نزاکتوں کو سمجھیں اور ان کو اپنے اندر اتاریں ۔ اللہ ہر بات کو جانتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ حکیم اور رحیم بھی ہے۔ وہ دیہات کے لوگوں ، بالفاظ دیگر عوام، کی اس کمزوری سے باخبر ہے اور اپنی حکمت ورحمت کی بنا پر انھیں اس کی پوری رعایت دیتاہے۔ چنانچہ ایسے لوگوں سے خدا کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ وہ گہری معرفت اور اعلیٰ دین داری کا ثبوت دیں ۔ وہ اگر نیک نیت ہوں تو خدا ان سے سادہ دین داری پر راضی ہوجائے گا۔ عوام کی دین داری یہ ہے کہ وہ سچے دل سے خدا کا اقرار کریں ۔ اپنے اندر اس احساس کو تازہ رکھیں کہ آخرت کا ایک دن آنے والا ہے۔ وہ اپنی کمائی کا ایک حصہ خدا کی راہ میں دیں اور یہ سمجھیں کہ اس کے ذریعہ سے انھیں خدا کی قربت اور برکت حاصل ہوگی۔ وہ خدا کی نمائندگی کرنے والے پیغمبر کو خوش کرکے اس کی دعائیں لینے کے طالب ہوں ۔ یہ دین داری کی عوامی سطح ہے، اور اگر آدمی کی نیت میں بگاڑ نہ ہو تو اس کا خدا اس سے اسی سادہ دین داری کو قبول کرلے گا۔ لیکن اگر عوام ایسا کریں کہ وہ خدااور اس کے احکام سے بالکل غافل ہوجائیں ، ان کو دین سے اتنی بے تعلقی ہو کہ دین کی راہ میں کچھ خرچ کرنا ان کو جرمانہ معلوم ہونے لگے، اسلام کی ترقی سے انھیں وحشت ہوتی ہو تو بلاشبہ وہ ناقابل معافی ہیں ۔ عوام کی کم فہمی کی بنا پر ان کو یہ رعایت تو ضرور دی جاسکتی ہے کہ ان سے گہری دین داری کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ لیکن ان کی کم فہمی اگر سرکشی اور اسلام کے ساتھ بے وفائی کی صورت اختیار کرلے تو وہ کسی حال میں بخشے نہیں جاسکتے۔


Connections

  • Previous: 9_97
  • Next: 9_99
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes