Recitation
Next: 11_33
Arabic
قَالُواْ يَٰنُوحُ قَدۡ جَٰدَلۡتَنَا فَأَكۡثَرۡتَ جِدَٰلَنَا فَأۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
Urdu
آخر کار ان لوگوں نے کہا کہ “اے نوحؑ، تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کر لیا اب تو بس وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر سچے ہو
English
They said, “O Noah, you have disputed us and been frequent in dispute of us. So bring us what you threaten us, if you should be of the truthful
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت نوح نے اپنی قوم سے جدال (جھگڑا اور مناظرہ) نہیں کیا تھا۔ وہ سنجیدہ انداز میں اپنا صالح پیغام ان کے سامنے پیش کررہے تھے۔ مگر آپ کی سنجیدہ دعوت آپ کی قوم کو الٹی صورت میں نظر آرہی تھی۔ اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب ا س کی اپنی ذات زد میں آرہی ہو تو وہ سنجیدگی کھو دیتاہے۔ ایسی بات کو وہ دلیل اور ثبوت کے اعتبار سے نہیں دیکھتا۔ وہ بغیر سوچے سمجھے اس کو رد کردیتا ہے۔ داعی حق کی ٹھوس دلیل بھی اس کو بحث وجدال معلوم ہونے لگتی ہے۔ ’’بہت جدال کرچکے‘‘ کا جملہ دراصل یہ بتانے کے لیے نہیں ہے کہ نوح نے کیا کہا تھا۔ بلکہ وہ اس کو بتاتا ہے کہ سننے والوں نے آپ کی بات کو کیا درجہ دیا تھا۔ اسی طرح مخالفینِ نوح کا عذاب کو طلب کرنا حقیقۃً عذاب کو طلب کرنا نہیں تھا۔ بلکہ حضرت نوح کا مذاق اڑانا تھاکہ دیکھو یہ شخص ایسی بات کہہ رہا ہے جو کبھی ہونے والی نہیں۔ وہ اپنی پوزیشن کو اتنا مستحکم سمجھتے تھے جس میں ان کے خیال کے مطابق کہیں سے عذاب آنے کی گنجائش نہ تھی۔ اسی ذہن کے تحت انھوں نے کہا کہ ہمارے انکار کی سزا میں جس عذاب کی تم خبر دیتے رہے ہو وہ عذاب لاؤ۔ اور چونکہ ان کے نزدیک ایساعذاب کبھی آنے والا نہ تھا اس لیے اس سے ان كي مراد يه تھي کہ ہم حق پر ہیں اور تم نا حق پر۔ حضرت نوح نے جواب دیا کہ تم معاملہ کو میری نسبت سے دیکھ رہے ہو اور چوں کہ میں کمزور ہوں اس لیے تمھاری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ عذاب کبھی تمھارے اوپر آسکتاہے۔ اگر معاملہ کو خدا کی نسبت سے دیکھتے تو تم یہ نہ کہتے۔ کیونکہ پھر تمھیں نظر آجاتا کہ اس دنیا میں ظالموں کے لیے عذاب کا آنا اتنا ہی یقینی ہے جتنا سورج کا نکلنا اور زلزلہ کا پھٹنا۔ داعیٔ حق کی بات کو ماننے کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ سننے والا اس کو کہنے والے کے اعتبار سے نہ دیکھے بلکہ جو کہا گیا ہے اس کے اعتبار سے دیکھے۔ چوں کہ حضرت نوح کی قوم آپ کی بات کو بس ایک عام انسان کی بات سمجھ رہی تھی، اس لیے آپ نے فرمایا کہ اس ذہن کے تحت تم میری بات کی قدر وقیمت کبھی نہیں پاسکتے۔ اب تو تمھارے لیے اسی دن کا ا نتظار کرنا ہے جب کہ خدا براہِ راست تمھارے سامنے آجائے۔