Recitation

Next: 11_44


Arabic

قَالَ سَـَٔاوِيٓ إِلَىٰ جَبَلٖ يَعۡصِمُنِي مِنَ ٱلۡمَآءِۚ قَالَ لَا عَاصِمَ ٱلۡيَوۡمَ مِنۡ أَمۡرِ ٱللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَۚ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا ٱلۡمَوۡجُ فَكَانَ مِنَ ٱلۡمُغۡرَقِينَ


Urdu

اُس نے پلٹ کر جواب دیا “میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھا جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا” نوحؑ نے کہا، آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے” اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا


English

[But] he said, “I will take refuge on a mountain to protect me from the water.” [Noah] said, “There is no protector today from the decree of Allah, except for whom He gives mercy.” And the waves came between them, and he was among the drowned


Tafsir — Bayan ul Quran

جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو خدا کے حکم سے طوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ زمین سے پانی کے دہانے پھوٹ پڑے۔ اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا۔ تمام لوگ اس میں ڈوب گئے۔ صرف وہ چند انسان اور کچھ مویشی بچے جو حضرت نوح کی کشتی میں سوار تھے۔ حتی کہ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہوگیا — خدا کی نظر میں کسی کی قیمت اس کے عمل کے اعتبار سے ہے، نہ کہ رشتہ کے اعتبار سے، خواہ وہ رشتہ پیغمبر کا کیوں نہ ہو۔ جب تمام ڈوبنے والے ڈوب چکے تو خدا نے حکم دیا کہ طوفان تھم جائے، اور طوفان تھم گیا۔ پانی سمندروں اور دریاؤں میں چلا گیا اور زمین دوبارہ رہنے کے قابل ہوگئی۔ طوفانِ نوح کے موقع پر دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھا کہ اونچے پہاڑ پر چڑھنے والے ڈوب گئے اور ہولناک موجوں کے باوجود کشتی میں بیٹھے والے سلامت رہے۔ اس کی وجہ خود پہاڑ میں یا کشتی میں نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حکم خداوندی کا معاملہ تھا۔ حکم خداوندی اگر پہاڑ کے ساتھ ہوتا تو پہاڑ اپنے چڑھنے والوں کو بچاتا اور کشتی کا سہارا لینے والے ہلاک ہوجاتے۔ مگر اس موقع پر حکم خداوندی کشتی کے ساتھ تھا۔ اس لیے کشتی والے محفوظ رہے اور دوسری چیزوں کی پناہ لینے والے غرق ہوگئے۔ دنیا میں اسباب کا نظام محض ایک پردہ ہے۔ ورنہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے براہِ راست خداکے حکم سے ہو رہا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردہ سے گزر کر اصل حقیقت کو دیکھ لے۔ وہ اسباب کے اندر خدائی طاقتوں کو کام کرتا ہوا پالے۔


Connections

  • Previous: 11_42
  • Next: 11_44
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes