Recitation
Next: 11_49
Arabic
قِيلَ يَٰنُوحُ ٱهۡبِطۡ بِسَلَٰمٖ مِّنَّا وَبَرَكَٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلَىٰٓ أُمَمٖ مِّمَّن مَّعَكَۚ وَأُمَمٞ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٞ
Urdu
حکم ہوا “اے نوحؑ اتر جا، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں، اور کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جن کو ہم کچھ مدت سامان زندگی بخشیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا
English
It was said, “O Noah, disembark in security from Us and blessings upon you and upon nations [descending] from those with you. But other nations [of them] We will grant enjoyment; then there will touch them from Us a painful punishment
Tafsir — Bayan ul Quran
جب تمام برے لوگ غرق ہوچکے تو طوفان تھم گیا۔ پانی دھیرے دھیرے زمین میں اور سمندروں میں چلا گیا۔ حضرت نوح کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی تھی، آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس سے نکل کر زمین پر اترے۔ زمین دوبارہ خداکے حکم سے سرسبز اور آباد ہو گئی۔ حضرت نوح جن لوگوں کے درمیان آئے وہ حضرت آدم کی نبوت کو ماننے والے لوگ تھے۔آپ کے بعد آپ کی امت ابتداء ً راہ راست پر رہی۔ اس کے بعد اس کی اگلی نسلوں میں بگاڑ آیا تو دوبارہ انبیاء بھیجے گئے۔ یہ بعد کو آنے والے انبیاء ان قوموں میں آئے جو حضرت نوح کی نبوت کو مانتی تھیں۔ اس کے باوجود جب انھوں نے وقت کے نبی کو مان کر اپنی اصلاح نہ کی تو وہ ہلاک کر دی گئیں ۔ گویا صرف کسی نبی کوماننا یا اس کی طرف اپنے کو منسوب کرنا نجات یافتہ ہونے کے لیے کافی نہیںہے۔ بلکہ وہ ایمان مطلوب ہے جو زندہ ایمان ہو اور جس کے اندر یہ طاقت ہو کہ وہ آدمی کی زندگی کو نیک عملی کی زندگی میں تبدیل کردے۔ حضرت نوح کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ باطل پرستوں کا زور خواہ کتنا ہی زیادہ ہو اور ان کی زندگی خواہ کتنی ہی طویل ہوجائے، بالآخر ان کے لیے جو چیز مقدر ہے وہ ہلاکت ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں اہلِ ایمان خواہ کتنے ہی کم ہوں اور خواہ وہ بظاہر کتنے ہی بے زور ہوں۔ مگر جب خدا کا فیصلہ ظاہر ہوتا ہے تو یہی لوگ ہیں جو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنائے جاتے ہیں، ابتداء ً موجودہ دنیا میں اور آخری طورپر آخرت میں۔