Recitation

Next: 14_32


Arabic

قُل لِّعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُنفِقُواْ مِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ سِرّٗا وَعَلَانِيَةٗ مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ يَوۡمٞ لَّا بَيۡعٞ فِيهِ وَلَا خِلَٰلٌ


Urdu

اے نبیؐ، میرے جو بندے ایمان لائے ہیں اُن سے کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے کھلے اور چھپے (راہ خیر میں) خرچ کریں قبل اِس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی


English

[O Muhammad], tell My servants who have believed to establish prayer and spend from what We have provided them, secretly and publicly, before a Day comes in which there will be no exchange, nor any friendships


Tafsir — Bayan ul Quran

آدمی کے اوپر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتاہے۔ اگر اس کے کچھ ساتھی ہیں تو وہ ساتھیوں کا زور استعمال کرتاہے۔ اور اگر دولت ہے تو دولت کو اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ اپنے کو بچانے کی تڑپ آدمی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ان دونوں چیزوں کی طرف دوڑے۔ نماز اور انفاق حقیقۃً مسئلہ آخرت کے بارے میں آدمی کے اسی احساس کا دنیوی اظہار ہیں۔ نماز گویا آخرت کی ہولناکی کو یاد کرکے خدا کی پناہ کی طرف بھاگنا ہے تاکہ اس کی مدد سے وہ اپنے آپ کو بچائے۔ اسی طرح دنیا میں کھلے اور چھپے خرچ کرناگویا اپنی کمائی کو آخرت کی مد میں دینا ہے تاکہ وہ آخرت کی مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ آخرت میں وہی آدمی سہارا پائے گا جس نے دنیا میں خدا کا سہارا پکڑا ہو۔ آخرت میں وہی آدمی چھٹکارا حاصل کرے گا جس نے دنیا میں اس کی خاطر اپنے دائیں بائیں خرچ کیا ہو۔ جولوگ دنیا میں ایسا نہ کرسکیں وہ آخرت میں سہارا کے لیے دوڑیں گے مگر وہاں وہ کوئی سہارا نہ پائیں گے۔ وہ آخرت میں خرچ کرنا چاہیں گے مگر ان کے پاس کچھ نہ ہوگا جس کو فدیہ دے کر وہ وہاں کی مصیبتوں سے نجات حاصل کریں۔


Connections

  • Previous: 14_30
  • Next: 14_32
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes