Recitation
Next: 14_33
Arabic
ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزۡقٗا لَّكُمۡۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلۡفُلۡكَ لِتَجۡرِيَ فِي ٱلۡبَحۡرِ بِأَمۡرِهِۦۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلۡأَنۡهَٰرَ
Urdu
اللہ وہی تو ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لیے طرح طرح کے پھل پیدا کیے جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ سمندر میں اُس کے حکم سے چلے اور دریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا
English
It is Allah who created the heavens and the earth and sent down rain from the sky and produced thereby some fruits as provision for you and subjected for you the ships to sail through the sea by His command and subjected for you the rivers
Tafsir — Bayan ul Quran
موجودہ دنیا انتہائی حیرت ناک حد تک خدا کی گواہی دے رہی ہے۔ وسیع خلا میں ستاروں اور سیاروں کی گردش، پانی کے ذریعہ زمین پر زندگی اور رزق کی فراہمی، خشکی و تری اور فضا پر انسان کو یہ قدرت ہونا کہ ان میں وہ اپنی سواریاں دوڑائے، دریاؤں اور پہاڑوں کے ذریعے زمین کا انسان کے موافق ہو جانا سورج اور چاند کے ذریعہ موسموں کا اور رات دن کا انتظام، سب کچھ اس سے زیادہ عظیم ہے کہ ان کو لفظوں میں بیان کیا جاسکے۔ انسان اور کائنات میں اتنی کامل مطابقت ہے کہ انسان کی ہر قابل قیاس یاناقابل قیاس ضرورت پیشگی طورپر یہاں بافراط موجود ہے۔ یہ تمام چیزیں اتنی زیادہ عجیب ہیں کہ آدمی کو ہلا دیں اور اس کو عبدیت کے جذبے سے سرشار کردیں۔ اس کے باوجود ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ کائنات کو دیکھ کر آدمی کے اندر استعجاب کی کیفیت پیدا ہو۔ خالق کائنات کے تصور سے اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی پیدا ہوتے ہی کائنات کو دیکھتا ہے، دیکھتے دیکھتے وہ اس کو ایک عام چیز معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس میں اسے کوئی انوکھا پن نظر نہیں آتا۔ مزید یہ کہ اس دنیا میں آدمی کو جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ بظاہر اس کو اسباب کے تحت ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس بنا پر وہ سمجھ لیتاہے کہ جو چیز اس کو ملی ہے وہ اس کی اپنی محنت اور صلاحیت کی بنا پر ملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی کے اندر دینے والے خدا کے ليے شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ انسان کی یہی وہ غفلت ہے جس کو یہاں بے انصافی اور ناشکر گزاری سے تعبیر کیا گیاہے۔