Recitation

Next: 14_6


Arabic

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ أَنۡ أَخۡرِجۡ قَوۡمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَذَكِّرۡهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ


Urdu

ہم اِس سے پہلے موسیٰؑ کو بھی اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیج چکے ہیں اسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لا اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کر اِن واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو


English

And We certainly sent Moses with Our signs, [saying], “Bring out your people from darknesses into the light and remind them of the days of Allah.” Indeed in that are signs for everyone patient and grateful


Tafsir — Bayan ul Quran

’’آیات اللہ‘‘ سے مرادکائنات کی وہ نشانیاں ہیں جو خدا کی بات کو برحق ثابت کرتی ہیں۔ ’’ایام اللہ‘‘ سے مراد تاریخ کے وہ یادگار واقعات ہیں جب کہ خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا اور خدا کی خصوصی مدد سے حق نے باطل کے اوپر فتح پائی۔ ایک اگر کائناتی دلیل ہے تو دوسری تاریخی دلیل۔ مگرعجیب بات ہے کہ یہی دونوں چیزیں ہماری دنیا میں سب سے زیادہ غیر موجود نظر آتی ہیں۔ ٓآیات اللہ کو غلط تشریح و تعبیر کے پردہ میں چھپا دیاگیا ہے اور ایام اللہ کایہ حال ہے کہ تاریخ نگاری کا کام جن لوگوں کے ہاتھ میں تھا انھوںنے ایام الانسان تو خوب قلم بند كيے مگر ایام اللہ ان کی کتابوں میں غیر مذکور رہ گئے۔ ایسی حالت میں کسی بندہ خدا کے لیے باطل کے اندھیرے سے نکلنے کی صورت یہ ہے کہ وہ صبر اور شکر کا ثبوت دے۔ حق کے اعتراف کی واحد قیمت اپنی بے اعترافی ہے۔ حق کو پانے کے لیے اپنے آپ کو کھونا پڑتا ہے۔ اور یہ چیز صبر کے بغیر کسی کو حاصل نہیں ہوتی۔ پھر حق کا ادراک آدمی کو یہ بتاتا ہے کہ اس کائنات میں جو تقسیم ہے وہ منعم اور منعم علیہ کی ہے۔ خدا دینے والا ہے اور انسان پانے والا۔ اس حقیقتِ واقعہ کی دریافت کے بعد آدمی کے اندر جو صحیح جذبہ پیدا ہونا چاہیے اسی کا نام شکر ہے۔ گویا حقیقت تک پہنچنے کے لیے آدمی کو صبر کا ثبوت دینا پڑتا ہے اور حقیقت کو اپنے اندر اتارنے کے لیے شکر کا۔


Connections

  • Previous: 14_4
  • Next: 14_6
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes