Recitation
Next: 14_7
Arabic
وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ أَنجَىٰكُم مِّنۡ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ يَسُومُونَكُمۡ سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُونَ نِسَآءَكُمۡۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَآءٞ مِّن رَّبِّكُمۡ عَظِيمٞ
Urdu
یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا “اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ بچا رکھتے تھے اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی
English
And [recall, O Children of Israel], when Moses said to His people, “Remember the favor of Allah upon you when He saved you from the people of Pharaoh, who were afflicting you with the worst torment and were slaughtering your [newborn] sons and keeping your females alive. And in that was a great trial from your Lord
Tafsir — Bayan ul Quran
ان آیات میں حضرت موسیٰ کی جس تقریر کا حوالہ ہے وہ غالباً آپ کی وہ تقریر ہے جو آپ نے اپنی وفات سے کچھ دنوں پہلے صحرائے سینا میں بنی اسرائیل کے سامنے فرمائی تھی۔ یہ تقریر موجودہ بائبل (کتاب استثنا) میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ حضرت موسیٰ کی اس مفصل تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر تم دنیا میں خدا والے بن کر رہو اور خدا کی باتوں کا چرچا کرو تو دنیا کی تمام چیزیں تمھارا ساتھ دیں گی۔ سب قوموں کے درمیان تمھارا رعب قائم ہوگا۔ خدا تمھارے دشمنوں کو زیر کرے گا۔ حتی کہ اگر کبھی دریا تمھارے راستے میں حائل ہو تو خدا حکم دے گااور دریا پھٹ کر تمھیں راستہ دے دے گا، جب کہ اسی دریا میں تمھارے دشمن غرق ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس، اگرتم ایسا نہ کرو تو تم خدا کی نظر میں لعنتی ٹھہرو گے، یعنی تم خدا کی رحمتوں سے دور ہوجاؤگے۔ تمھاری محنت کی پیداوار دوسرے لوگ کھائیں گے، تمھارے ہر کام بگڑتے چلے جائیں گے، تم فکری اور عملی اعتبار سے دوسری قوموں کے زیرِ دست ہوجاؤگے۔ خدا کا یہ قانون معروف معنوں میں ’’یہود‘‘ کے لیے نہیں ہے بلکہ حاملِ کتاب قوم کے لیے ہے۔ جو قوم بھی حاملِ کتاب ہو، اس کے ساتھ خدا کا یہی معاملہ ہے، خواہ وہ ماضی کے حاملینِ کتاب ہوں یا حال کے حاملین کتاب۔