Recitation
Next: 14_10
Arabic
أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ نَبَؤُاْ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ قَوۡمِ نُوحٖ وَعَادٖ وَثَمُودَ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ لَا يَعۡلَمُهُمۡ إِلَّا ٱللَّهُۚ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَرَدُّوٓاْ أَيۡدِيَهُمۡ فِيٓ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَقَالُوٓاْ إِنَّا كَفَرۡنَا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ وَإِنَّا لَفِي شَكّٖ مِّمَّا تَدۡعُونَنَآ إِلَيۡهِ مُرِيبٖ
Urdu
کیا تمہیں اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں؟ قوم نوحؑ، عاد، ثمود اور اُن کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے؟ اُن کے رسول جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اور کھلی کھلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو اُنہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ “جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں
English
Has there not reached you the news of those before you - the people of Noah and ‘Aad and Thamud and those after them? No one knows them but Allah. Their messengers brought them clear proofs, but they returned their hands to their mouths and said, “Indeed, we disbelieve in that with which you have been sent, and indeed we are, about that to which you invite us, in disquieting doubt
Tafsir — Bayan ul Quran
خدا کے جتنے رسول مختلف قوموں میںآئے سب کے ساتھ ایک ہی قصہ پیش آیا۔ ہر قوم نے اپنے پیغمبروں کی مخالفت کی۔ ہر جگہ ان کا منھ بند کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ ان کا ’’شک‘‘ تھا۔ یہ شک اس لیے تھاکہ ان کے سامنے ایک طرف ان کا آبائی دین تھا جس کی پشت پر اکابر اور اعاظم کے نام تھے۔ دوسری طرف پیغمبر کا دین تھا ،جو بظاہر ایک معمولی انسان کے ذریعہ پیش کیا جارہا تھا۔ دلائل کا زور پیغمبر کے دین کے ساتھ نظر آتا تھا مگر تاریخی عظمت اورعوامی بھیڑ آبائی دین کے ساتھ دکھائی دیتی تھی۔ پیغمبر کے مخاطبین کا یہ حال ہوا کہ وہ دلائل کو رد کرنے کی قوت اپنے اندر نہ پاتے تھے۔ اور یہ بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اعاظم اوراکابر کو کس طرح غلط سمجھ لیں۔ اس دو طرفہ صورت حال نے انھیں شک میں مبتلا کردیا۔ عملاً اگر چہ وہ آبائی دین کے ساتھ وابستہ رہے مگر اپنے قلب ودماغ کو شک سے آزاد بھی نہ کرسکے۔