Recitation
Next: 17_4
Arabic
ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوحٍۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَبۡدٗا شَكُورٗا
Urdu
تم اُن لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، اور نوحؑ ایک شکر گزار بندہ تھا
English
O descendants of those We carried [in the ship] with Noah. Indeed, he was a grateful servant
Tafsir — Bayan ul Quran
اسراء کے مذکورہ واقعہ کا مطلب یہ تھا کہ بني اسرائیل (یہود) کو حاملِ کتاب کے مقام سے معزول کردیا گیا اور ان کی جگہ بنو اسماعیل کو کتابِ الٰہی کا حامل بنا دیا گیا۔ یہ واقعہ خدا کی سنت کے تحت عمل میںآیا ۔ خدا اس دنیا میں حق کے اعلان کے لیے کسی متعین گروہ کو منتخب کرتاہے۔ یہ سب سے بڑا اعزاز ہے جو اس دنیا میں کسی کو ملتاہے۔ تاہم یہ انتخاب نسل یا قوم کی بنیاد پر نہیںہے۔ اس کا استحقاق کسی گروہ کے لیے صرف اس وقت ثابت ہوتاہے جب کہ وہ اس کے لیے ضروری اہلیت کا ثبوت دے۔ اہلیت کے ختم ہوتے ہی اس کا استحقاق بھی ختم ہوجاتا ہے۔ امّتِ آدم، امّتِ نوح، امتِ موسیٰ، امتِ مسیح، ہر ایک کے ساتھ یہ واقعہ ہوچکا ہے۔ آئندہ امت کے لیے بھی خدا کا قانون یہی ہے، اس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ اس منصب کے لیے جو اہلیت درکار ہے، وہ یہ کہ خداکے سوا کسی کو وکیل (کارساز) نہ بنایا جائے۔ صرف ایک خدا پر سارا بھروسہ کرکے اپنے تمام معاملات اس کے حوالے کردئے جائیں۔ خدا کو جب آدمی اس کی تمام عظمتوں اور قدرتوں کے ساتھ پاتاہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ خدا کو اپنا وکیل بنا لیتاہے۔ جس شخص کو خدا کی حقیقی معرفت ہوجائے، اس کا حال یہی ہوگا کہ وہ اس دنیا میں خدا کو اپنا سب کچھ بنا لے گا۔ جو لوگ اس طرح خدا کو پالیں وہی موجودہ دنیا میں مومنانہ زندگی گزار سکتے ہیں۔ مومنانہ زندگی گزرانے کے لیے آدمی کو تمام مخلوقات سے اوپر اٹھنا پڑتاہے۔ اور تمام مخلوقات سے وہی شخص اوپر اٹھ سکتا ہے جو سب سے بڑی چیز — مخلوقات کے خالق ومالک کو پالے۔ دعوتِ حق کی ذمہ داری بھی وہی لوگ صحیح طورپر ادا کرسکتے ہیں جن کو خدا کی معرفت کا یہ درجہ حاصل ہوجائے۔ دعوتِ حق کے لیے کامل بے غرضی اورکامل یکسوئی لازمی طورپر ضروری ہے۔ اورکامل بے غرضی اور کامل یکسوئی اس کے بغیر کسی کے اندر پیدانہیں ہوسکتی کہ اس کي تمام امیدیں اور اندیشے خدا سے وابستہ ہوچکے ہوں، خدا ہی اس کا سب کچھ بن چکا ہو۔