Recitation

Next: 17_48


Arabic

نَّحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَسۡتَمِعُونَ بِهِۦٓ إِذۡ يَسۡتَمِعُونَ إِلَيۡكَ وَإِذۡ هُمۡ نَجۡوَىٰٓ إِذۡ يَقُولُ ٱلظَّـٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا


Urdu

ہمیں معلوم ہے کہ جب وہ کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں تو دراصل کیا سنتے ہیں، اور جب بیٹھ کر باہم سرگوشیاں کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں یہ ظالم آپس میں کہتے ہیں کہ یہ ایک سحر زدہ آدمی ہے جس کے پیچھے تم لوگ جا رہے ہو


English

We are most knowing of how they listen to it when they listen to you and [of] when they are in private conversation, when the wrongdoers say, “You follow not but a man affected by magic


Tafsir — Bayan ul Quran

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں دلائل کا زور اتنا زیادہ تھا کہ عرب کے عام لوگ اس سے مرعوب ہونے لگے۔ یہ دیکھ کر وہاں کے سرداروں کو خطرہ محسوس ہوا کہ اگر ان لوگوں نے بڑی تعداد میں نئے دین کو قبول کرلیا تو ہماری سرداری ختم ہوجائے گی۔ انھوںنے لوگوں کو اس سے پھیرنے کے لیے ایک تدبیر کی۔ انھوںنے کہا کہ اس شخص کے کلام میں تم جو زور دیکھ رہے ہو وہ دراصل ساحرانہ کلام کا زور ہے۔ یہ ’’ادب‘‘ کا معاملہ ہے، نہ کہ حقیقۃً صداقت کا معاملہ۔ اس طرح انھوںنے یہ کیا کہ جس کلام کی عظمت میں لوگ صداقت کی جھلک دیکھ رہے تھے اس کو لوگوں کی نظر میں ’’قلم کے جادو‘‘ کے ہم معنی بنادیا۔ جو لوگ کسی دعوت کو اس کے جوہر کی بنیاد پر نہ دیکھیں بلکہ اس اعتبار سے دیکھیں کہ وہ ان کی حیثیت کی تصدیق کرتی ہے یا تردید، ایسے لوگ کبھی صداقت کو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔


Connections

  • Previous: 17_46
  • Next: 17_48
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes