Recitation
Next: 17_49
Arabic
ٱنظُرۡ كَيۡفَ ضَرَبُواْ لَكَ ٱلۡأَمۡثَالَ فَضَلُّواْ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ سَبِيلٗا
Urdu
دیکھو، کیسی باتیں ہیں جو یہ لوگ تم پر چھانٹتے ہیں یہ بھٹک گئے ہیں اِنہیں راستہ نہیں ملتا
English
Look how they strike for you comparisons; but they have strayed, so they cannot [find] a way
Tafsir — Bayan ul Quran
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں دلائل کا زور اتنا زیادہ تھا کہ عرب کے عام لوگ اس سے مرعوب ہونے لگے۔ یہ دیکھ کر وہاں کے سرداروں کو خطرہ محسوس ہوا کہ اگر ان لوگوں نے بڑی تعداد میں نئے دین کو قبول کرلیا تو ہماری سرداری ختم ہوجائے گی۔ انھوںنے لوگوں کو اس سے پھیرنے کے لیے ایک تدبیر کی۔ انھوںنے کہا کہ اس شخص کے کلام میں تم جو زور دیکھ رہے ہو وہ دراصل ساحرانہ کلام کا زور ہے۔ یہ ’’ادب‘‘ کا معاملہ ہے، نہ کہ حقیقۃً صداقت کا معاملہ۔ اس طرح انھوںنے یہ کیا کہ جس کلام کی عظمت میں لوگ صداقت کی جھلک دیکھ رہے تھے اس کو لوگوں کی نظر میں ’’قلم کے جادو‘‘ کے ہم معنی بنادیا۔ جو لوگ کسی دعوت کو اس کے جوہر کی بنیاد پر نہ دیکھیں بلکہ اس اعتبار سے دیکھیں کہ وہ ان کی حیثیت کی تصدیق کرتی ہے یا تردید، ایسے لوگ کبھی صداقت کو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔