Recitation
Next: 17_63
Arabic
قَالَ أَرَءَيۡتَكَ هَٰذَا ٱلَّذِي كَرَّمۡتَ عَلَيَّ لَئِنۡ أَخَّرۡتَنِ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَأَحۡتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٗا
Urdu
پھر وہ بولا “دیکھ تو سہی، کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے اِسے مجھ پر فضیلت دی؟ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں اس کی پوری نسل کی بیخ کنی کر ڈالوں، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے
English
[Iblees] said, “Do You see this one whom You have honored above me? If You delay me until the Day of Resurrection, I will surely destroy his descendants, except for a few
Tafsir — Bayan ul Quran
فرشتے اور ابلیس کا قصہ بتاتاہے کہ ماننے والے کیسے ہوتے ہیں اور نہ ماننے والے کیسے۔ ماننے والے لوگ حق کو حق کے لحاظ سے دیکھتے ہیں چنانچہ اس کو سمجھنے میں انھیں دیر نہیں لگتی۔ وہ فوراً اس کو سمجھ کر اسے مان لیتے ہیں۔ جیسا کہ آدم کی پیدائش کے وقت فرشتوںنے کیا۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو حق کو اپنے ذات کی نسبت سے دیکھتے ہیں۔ شیطان نے یہی کیا۔ ا س نے حق کو اپنی ذات کی نسبت سے دیکھا۔ چوں کہ سجدۂ آدم کا حکم آدم کو بظاہر بڑا بنارہا تھا اور اس کو چھوٹا، اس نے ایسے حق کو ماننے سے انکار کردیا جس کو ماننے کے بعد اس کی اپنے ذات چھوٹی ہوجائے۔ شیطان نے خدا کو جو چیلنج دیا تھا اس کو سامنے رکھ کر دیکھيے تو ہر وہ شخص شیطان کا شکار نظر آئے گا جو حق کو اس لیے نظر انداز کردے کہ اس کو ماننے کی صورت میں اس کی اپنی ذات دوسرے کے مقابلہ میں چھوٹی ہوجاتی ہے۔