Recitation
Next: 17_65
Arabic
وَٱسۡتَفۡزِزۡ مَنِ ٱسۡتَطَعۡتَ مِنۡهُم بِصَوۡتِكَ وَأَجۡلِبۡ عَلَيۡهِم بِخَيۡلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡوَٰلِ وَٱلۡأَوۡلَٰدِ وَعِدۡهُمۡۚ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا
Urdu
تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھسلا سکتا ہے پھسلا لے، ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا، مال اور اولاد میں ان کے ساتھ ساجھا لگا، اور ان کو وعدوں کے جال میں پھانس اور شیطان کے وعدے ایک دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں
English
And incite [to senselessness] whoever you can among them with your voice and assault them with your horses and foot soldiers and become a partner in their wealth and their children and promise them.” But Satan does not promise them except delusion
Tafsir — Bayan ul Quran
’’انسانوں میں سے جو شخص شیطان کی راہ چلے گا‘‘۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے کہ وہ خواہ شیطان کے راستے پر چلے یا خدا کے بتائے ہوئے راستہ پر۔ اسی آزادی کے استعمال میںانسان کا اصل امتحان ہے۔ یہیں کامیاب ہو کر وہ یا تو خداکا انعام پاتاہے یا ناکام ہو کر شیطان کے انجام کا مستحق بن جاتا ہے۔ شیطان کو اس دنیا میں آزادی حاصل ہے کہ وہ انسان کو اپنا ساتھی بنائے۔ وہ اس کے اوپر اپنی ساری کوشش استعمال کرے۔ وہ اس کے اندر گھس کر اس کے مال واولاد میں شامل ہوجائے۔ مگر شیطان کو کسی بھی درجہ میںانسان کے اوپر کوئی اختیار نہیں دیاگیاہے۔ شیطان کے بس میں صرف یہ ہے کہ وہ آواز اورالفاظ کے ذریعے لوگوںکو بہکائے۔ وہ بے حقیقت چیزوں کو خوش نما بنا کر انھیں عظیم حقیقت کے روپ میں پیش کرے۔ آیت میں لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ(ان پر تیرا زور نہیں چلے گا ) الفاظ بتاتے ہیں کہ شیطان امکانی طورپرانسان کے مقابلہ میں زیادہ طاقت ور ہے۔ پھر ایک ایسی دنیا جہاں شیطان اپنے تمام ’’سوار اور پیادے‘‘ کے ذریعہ انسان کے اوپر حملہ آور ہو وہاں اس سے بچنے کا راستہ کیا ہے۔ اس کا راستہ صرف یہ ہے کہ انسان خدا کو حقیقی معنوں میں اپنا کارساز بنائے۔ جو شخص ایسا کرے گا خدا اس کو اس طرح اپنی حفاظت میں لے لے گا کہ شیطان اس کے مقابلہ میں اپنی تمام طاقتوں کے باوجود عاجز ہو کر رہ جائے۔