Recitation

Next: 18_17


Arabic

وَإِذِ ٱعۡتَزَلۡتُمُوهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُونَ إِلَّا ٱللَّهَ فَأۡوُۥٓاْ إِلَى ٱلۡكَهۡفِ يَنشُرۡ لَكُمۡ رَبُّكُم مِّن رَّحۡمَتِهِۦ وَيُهَيِّئۡ لَكُم مِّنۡ أَمۡرِكُم مِّرۡفَقٗا


Urdu

اب جبکہ تم ان سے اور اِن کے معبودانِ غیر اللہ سے بے تعلق ہو چکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لیے سر و سامان مہیا کر دے گا


English

[The youths said to one another], “And when you have withdrawn from them and that which they worship other than Allah, retreat to the cave. Your Lord will spread out for you of His mercy and will prepare for you from your affair facility


Tafsir — Bayan ul Quran

بندہ جب حق کی خاطر انسانوں سے کٹتا ہے تو عین اسی وقت وہ خدا سے جڑ جاتاہے۔ حتی کہ وہ اپنے رب سے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اس سے اس کی سرگوشیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ اپنے رب سے کلام کرتاہے اور اس سے اس کا جواب پاتا ہے۔ اصحابِ کہف کا نومسلمانہ یقین، ان کی بے خوف تبلیغ، ان کا سب کچھ چھوڑنے پر راضی ہوجانا مگر حق کونہ چھوڑنا، ان چیزوں نے ان کو قربت خداوندی کا اعلیٰ مقام عطا کردیا تھا۔ وہ بظاہر جو کچھ کھورہے تھے، اس سے زیادہ بڑی چیز ان کے لیے وہ تھی جس کو انھوں نے پایا تھا۔ یہی یافت کا وہ احساس تھا جس نے انھیں آمادہ کیا کہ وہ ہر دوسری چیز کی محرومی گوارا کرلیں مگر حق سے محرومی کو گوارا نہ کریں۔ وہ اس پر راضی ہوگئے کہ وہ اپنے گھر اور شہر کو چھوڑ کر غار میں چلے جائیں اور پھر بھی ان کی یہ امید باقی رہے کہ ان کا خدا ضرور ان کی مدد کرے گا اور ان کے حالات کو درست کردے گا۔ ابنِ جریر نے عطا کے حوالے سے ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ ان کی تعداد سات تھی۔ وہ غار میں داخل ہو کر عبادت کرتے رہتے اور روتے اور اللہ سے مدد مانگتے (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ 148 )، یہاںتک کہ بالآخر خدانے ان پر لمبی نیند طاری کردی۔


Connections

  • Previous: 18_15
  • Next: 18_17
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes