Recitation

Next: 18_27


Arabic

قُلِ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا لَبِثُواْۖ لَهُۥ غَيۡبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ أَبۡصِرۡ بِهِۦ وَأَسۡمِعۡۚ مَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِيّٖ وَلَا يُشۡرِكُ فِي حُكۡمِهِۦٓ أَحَدٗا


Urdu

تم کہو، اللہ ان کے قیام کی مدّت زیادہ جانتا ہے، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اُسی کو معلوم ہیں، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا! زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبرگیر اُس کے سوا نہیں، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا


English

Say, “Allah is most knowing of how long they remained. He has [knowledge of] the unseen [aspects] of the heavens and the earth. How Seeing is He and how Hearing! They have not besides Him any protector, and He shares not His legislation with anyone


Tafsir — Bayan ul Quran

قتادہ اور مطرف بن عبد اللہ کی تفسیر کے مطابق 300 سال یا 309 سال لوگوں کے قول کی حکایت ہے، نہ کہ خداکی طرف سے خبر۔ عبد اللہ بن مسعود کی قرأت سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ اس زمانہ کے اہلِ کتاب غیر مستند قصوں کی بنیاد پر یہ سمجھتے تھے کہ غار میںاصحاب کہف کے قیام کی مدت شمسي کیلنڈر کے لحاظ سے 300 سال ہے اور قمری کیلنڈر کے لحاظ سے 309 سال (تفسیر ابن کثیر، جلد 5، صفحہ 151 ) قرآن نے لوگوں کے اس خیال کو نقل کیا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ کہہ کر اس کو بے بنیاد قرار دے دیا کہ قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا (کہو کہ اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ غار میں کتناٹھہرے)۔ موجودہ زمانہ کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ یہ مدت شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے 196 سال تھی۔ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے جو تمام اگلی پچھلی باتوں سے باخبر ہے۔ اور اسی علم کی بنا پر اس نے مذکورہ قول کو قبول نہیں کیا۔ قرآن اگر کوئی انسانی کلام ہوتا تو یقیناً وہ اپنے زمانہ کے مشہور قول کو لے لیتا جو بالآخر بعد کی تحقیق سے ٹکرا جاتا۔


Connections

  • Previous: 18_25
  • Next: 18_27
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes