Recitation
Next: 18_63
Arabic
فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَىٰهُ ءَاتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدۡ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَٰذَا نَصَبٗا
Urdu
آگے جا کر موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا ” لاؤ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں
English
So when they had passed beyond it, [Moses] said to his boy, “Bring us our morning meal. We have certainly suffered in this, our journey, [much] fatigue
Tafsir — Bayan ul Quran
خدا فرشتوں کے ذریعہ مسلسل دنیا کا انتظام کررہا ہے۔ انسان چوں کہ اس انتظام کو نہیں دیکھتا، وہ اس کے بھیدوں کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔ وہ کم تر واقفیت کی بناپر طرح طرح کے شبہات میں مبتلا ہوجاتاہے۔ اس کے علاج کے لیے خدا نے بالواسطہ مشاہدہ کا انتظام کیا۔ اس نے اپنے چنے ہوئے بندوں کو مخفی دنیا کا مشاہدہ کرایا تاکہ وہ اس کی حکمتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور دوسرے انسانوں کو اس سے باخبر کردیں۔ یہاں حضرت موسیٰ کے جس واقعہ کا ذکر ہے وہ اسی قسم کا ایک استثنائی واقعہ ہے جس کے ذریعے ان کو خداکے چھپے ہوئے نظام کی ایک جھلک دکھائی گئی۔ حضرت موسیٰ نے یہ سفر غالباً مصر وسوڈان کے درمیان اپنے ایک نوجوان شاگرد (یوشع بن نون) کے ساتھ کیا تھا۔ خدا نے بطور علامت انھیں بتایا تھاکہ تم چلتے رہو۔ یہاں تک کہ جب تم اس جگہ پہنچو جہاں دو دریا باہم ملتے ہوں تو وہاں تم کو ہمارا ایک بندہ (غالباً فرشتہ به شکل انسان) ملے گا۔ تم اس کے ساتھ ہو لینا۔