Recitation
Next: 18_64
Arabic
قَالَ أَرَءَيۡتَ إِذۡ أَوَيۡنَآ إِلَى ٱلصَّخۡرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ ٱلۡحُوتَ وَمَآ أَنسَىٰنِيهُ إِلَّا ٱلشَّيۡطَٰنُ أَنۡ أَذۡكُرَهُۥۚ وَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِي ٱلۡبَحۡرِ عَجَبٗا
Urdu
خادم نے کہا “آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھیرے ہوئے تھے اُس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر (آپ سے کرنا) بھول گیا مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی
English
He said, “Did you see when we retired to the rock? Indeed, I forgot [there] the fish. And none made me forget it except Satan - that I should mention it. And it took its course into the sea amazingly
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت موسیٰکو مزید علامت یہ بتائی گئی تھی کہ تم جب مطلوبہ مقام پر پہنچوگے تو تمھارے ناشتہ کی مچھلی عجیب طریقہ سے پانی میں چلی جائے گی۔ یہ واقعہ ایک مقام پر ہوا۔ مگر مچھلی شاگرد کے ساتھ تھی اور شاگرد کسی وجہ سے حضرت موسیٰ کو بتا نہ سکا کہ ایسا واقعہ ہواہے۔ کچھ آگے بڑھنے کے بعد جب موسیٰکو معلوم ہوا تو وہ فوراً واپس ہوئے اور مذکورہ مقام پر اس بندہ (خضر) کو پالیا جس سے ملنے کے لیے انھوں نے یہ لمبا سفر کیا تھا۔