Recitation
Next: 19_59
Arabic
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءَادَمَ وَمِمَّنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوحٖ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡرَـٰٓءِيلَ وَمِمَّنۡ هَدَيۡنَا وَٱجۡتَبَيۡنَآۚ إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُ ٱلرَّحۡمَٰنِ خَرُّواْۤ سُجَّدٗاۤ وَبُكِيّٗا۩
Urdu
یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا آدمؑ کی اولاد میں سے، اور اُن لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، ا ور ابراہیمؑ کی نسل سے اور اسرائیلؑ کی نسل سے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا ان کا حال یہ تھا کہ جب رحمان کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے تھے
English
Those were the ones upon whom Allah bestowed favor from among the prophets of the descendants of Adam and of those We carried [in the ship] with Noah, and of the descendants of Abraham and Israel, and of those whom We guided and chose. When the verses of the Most Merciful were recited to them, they fell in prostration and weeping
Tafsir — Bayan ul Quran
یہاں ان پیغمبروں کی طرف اشارہ کیاگیا ہے جو آدم کی نسل، نوح کی نسل اور ابراہیم کی نسل میں خصوصیت سے پیدا ہوئے جن کو خدا نے اس کا اہل پایا کہ ان کو اپنی خاص ہدایت سے نوازے اور ان کو لوگوں کے سامنے اپنی نمائندگی کے لیے چن لے۔ ان حضرات پر خدا نے اتنے بڑے بڑے انعامات کیوں كيے۔ فرمایا کہ اس کی وجہ ان کا یہ مشترک وصف تھاکہ وہ خدا کی خدائی کے احساس میں اتنا بڑھے ہوئے تھے کہ اس کا کلام سن کر ان کا سینہ ہل جاتا تھا اور وہ روتے ہوئے اس کے آگے زمین پر گر پڑتے تھے۔ ’’روتے ہوئے سجدہ میں گرنا‘‘ خداکے عظمت وجلال کے اعتراف کا آخری درجہ ہے۔ جس کو یہ درجہ ملے اس نے گویا اس ایمان کا ذائقہ چکھا جو نبیوں اور رسولوں کے لیے خاص ہے۔