Recitation
Next: 21_32
Arabic
وَجَعَلۡنَا فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمۡ وَجَعَلۡنَا فِيهَا فِجَاجٗا سُبُلٗا لَّعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُونَ
Urdu
اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں، شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کر لیں
English
And We placed within the earth firmly set mountains, lest it should shift with them, and We made therein [mountain] passes [as] roads that they might be guided
Tafsir — Bayan ul Quran
یہاں زمین کی چند نمایاں نشانیوں کا ذکر ہے جو انسان کو خدا کی یاد دلاتی ہیں تاکہ وہ اس کا شکر گزار بندہ بنے۔ ان میں سے ایک پہاڑوں کے سلسلے ہیں جو سمندروں کے نیچے کے کثیف مادہ کو متوازن رکھنے کے لیے سطح زمین پر جگہ جگہ ابھر آئے ہیں۔اس سے مراد غالباً وہی چیز ہے جس کو جدید سائنس میں ارضی توازن(Isostasy)کہا جاتا ہے۔ اسی طرح زمین کا اس قابل ہونا بھی ایک نشانی ہے کہ انسان اس پر اپنے ليے راستے بنا سکتا ہے، کہیں ہموار میدان کی صورت میں، کہیں پہاڑی دروں کی صورت میں اور کہیں دریائی شگاف کی صورت میں۔ آسمان کی ’’چھت‘‘ جو ہماری بالائی فضا ہے، اس کی ترکیب اس طرح سے ہے کہ وہ ہم کو سورج کے نقصان دہ شعاعوں سے بچاتی ہے۔ وہ شہاب ثاقب کی مسلسل بارش کو ہم تک پہنچنے سے روکے ہوئے ہے۔ اسی طرح سورج اور چاند کا ٹکرائے بغیر ایک خاص دائرہ میں گھومنا اور اس کی وجہ سے زمین پر دن اور رات کا باقاعدگی کے ساتھ پیدا ہونا۔ اس قسم کی بے شمار نشانیاں ہماری دنیا میںہیں۔ آدمی ان کو گہرائی کے ساتھ دیکھے تو وہ خدا کی قدرتوں اور نعمتوں کے احساس میں ڈوب جائے۔ مگر آدمی ان کو نظر انداز کردیتاہے۔ وہ کھلے کھلے واقعات کو دیکھ کر بھی اندھا بہرا بنا رہتا ہے۔