Recitation
Next: 21_33
Arabic
وَجَعَلۡنَا ٱلسَّمَآءَ سَقۡفٗا مَّحۡفُوظٗاۖ وَهُمۡ عَنۡ ءَايَٰتِهَا مُعۡرِضُونَ
Urdu
اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا، مگر یہ ہیں کہ اس کی نشانیوں کی طرف توجّہ ہی نہیں کرتے
English
And We made the sky a protected ceiling, but they, from its signs, are turning away
Tafsir — Bayan ul Quran
یہاں زمین کی چند نمایاں نشانیوں کا ذکر ہے جو انسان کو خدا کی یاد دلاتی ہیں تاکہ وہ اس کا شکر گزار بندہ بنے۔ ان میں سے ایک پہاڑوں کے سلسلے ہیں جو سمندروں کے نیچے کے کثیف مادہ کو متوازن رکھنے کے لیے سطح زمین پر جگہ جگہ ابھر آئے ہیں۔اس سے مراد غالباً وہی چیز ہے جس کو جدید سائنس میں ارضی توازن(Isostasy)کہا جاتا ہے۔ اسی طرح زمین کا اس قابل ہونا بھی ایک نشانی ہے کہ انسان اس پر اپنے ليے راستے بنا سکتا ہے، کہیں ہموار میدان کی صورت میں، کہیں پہاڑی دروں کی صورت میں اور کہیں دریائی شگاف کی صورت میں۔ آسمان کی ’’چھت‘‘ جو ہماری بالائی فضا ہے، اس کی ترکیب اس طرح سے ہے کہ وہ ہم کو سورج کے نقصان دہ شعاعوں سے بچاتی ہے۔ وہ شہاب ثاقب کی مسلسل بارش کو ہم تک پہنچنے سے روکے ہوئے ہے۔ اسی طرح سورج اور چاند کا ٹکرائے بغیر ایک خاص دائرہ میں گھومنا اور اس کی وجہ سے زمین پر دن اور رات کا باقاعدگی کے ساتھ پیدا ہونا۔ اس قسم کی بے شمار نشانیاں ہماری دنیا میںہیں۔ آدمی ان کو گہرائی کے ساتھ دیکھے تو وہ خدا کی قدرتوں اور نعمتوں کے احساس میں ڈوب جائے۔ مگر آدمی ان کو نظر انداز کردیتاہے۔ وہ کھلے کھلے واقعات کو دیکھ کر بھی اندھا بہرا بنا رہتا ہے۔